شرحِ زیارتِ حضرت ام المومنین (س) — حصہ ۳
شرحِ زیارتِ حضرت ام المومنین (س)
سلسلہ ~۶ منٹ مطالعہ

شرحِ زیارتِ حضرت ام المومنین (س) — حصہ ۳

اَلسَّلامُ عَلَیْک یا زَوْجَةَ سَیّـِدِ الْمُرْسَلِینِ
آپ پر سلام ہو، اے سرورِ انبیاء کی زوجہ
وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا كَذَلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَشْكُرُونَ

اور پاکیزہ (اور شیریں) سرزمین اپنے پروردگار کے حکم سے سبزہ اگاتی ہے، لیکن بدطینت (اور شورزدہ) زمینوں سے ناچیز اور بے قدر سبزے کے سوا کچھ نہیں اگتا۔ ہم اسی طرح ان لوگوں کے لیے آیات بیان کرتے ہیں جو شکر گزار ہیں۔

سورۂ مبارکہ اعراف، آیۂ شریفہ 58

◀️ سورۂ مبارکہ اعراف کی آیۂ شریفہ 58 ایک ایسی پاکیزہ زمین کی طرف اشارہ کرتی ہے جو کثیر الخیر اور بابرکت ہے اور اللہ کے اذن سے اپنا پھل عطا کرتی ہے۔ یہ آیت، جو ظاہری (آفاقی) طور پر ایک مثال کی صورت میں بیان ہوئی ہے، باطنی (انفسی) پہلو اور بطنِ معنی میں ایک پاک و مطہر زمین کی طرف اشارہ کرتی ہے جو خیرِ کثیر کا سرچشمہ ہے، اور اس سے مراد وہی «اصالت و شرافت والی پاکدامن خواتین» ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ آیۂ شریفہ کی تفسیر میں آیا ہے:
فینبغی ان یتخیر لنفسه من النساء العفیفة الکریمة الاصل، و یویّده قوله «وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا»
«پس مناسب ہے کہ انسان اپنے لیے خواتین میں سے ایسی عورت کا انتخاب کرے جو عفیف و پاکدامن اور خاندانی اصالت رکھنے والی ہو؛ اور اس مفہوم کی تائید اللہ کے اس فرمان سے ہوتی ہے کہ وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ ....

کنزالعرفان فی فقہ القرآن، جلد 2، صفحہ 228

باطنی (انفسی) پہلو سے یہ آیۂ شریفہ اتم و اکمل معنی میں حضرت خانم اُمّ المومنین، خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا پر دلالت کرتی ہے۔
مذکورہ دلائل کے بیان میں سرورِ انبیاء کی زوجہ حضرت خانم کے وصف میں درج ذیل نکات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

1️⃣ النساء العفیفة (عفیف و پاکدامن خواتین)

حضرت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک روایت میں حضرت خانم خدیجہ کبریٰ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

فضلت خديجة على نساء أمتي كما فضلت مريم على نساء العالمين «بے شک خدیجہ کو میری امت کی عورتوں پر برتری دی گئی ہے، جس طرح مریم کو جہانوں کی عورتوں پر برتری دی گئی تھی۔»

تفسیر نور الثقلین، جلد 1، صفحہ 336

▫️اسی طرح حضرت رسول ایک اور روایت میں فرماتے ہیں:

و کانت من احسن النساء جمالا و اکملهن عقلا و اتمهن رأیا و اکثر هن عفه و دنیا و حیاء و مروه و مالا «اور وہ چہرے کے اعتبار سے سب سے حسین خواتین میں سے تھیں، عقل میں ان سب سے کامل، رائے اور فکر میں سب سے پختہ، اور سب سے زیادہ عفیف، دیندار، باحیا، جوانمرد اور مالدار تھیں۔»

ریاحین الشریعہ، جلد 2، صفحہ 204

2️⃣ الکریمة الاصل (خاندانی اصالت و شرافت کی حامل)

⬅️ خاندانی اصالت و شرافت کی اہمیت کے لیے یہی کافی ہے کہ حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) نے حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کی شہادت کے بعد، جب اپنے لیے شریکِ حیات منتخب کرنا چاہا تو اپنے بھائی عقیل سے فرمایا:

انظر لی امراة قد ولدتها الفحولة من العرب، من ذوی البیوت و النسب و الحسب الشجاعة «میرے لیے ایسی عورت تلاش کرو جو عرب کے دلیر اور نامور مردوں سے پیدا ہوئی ہو؛ ایسے معروف گھرانوں سے جو نسب، حسب اور شجاعت رکھتے ہوں۔»

المجالس الشجیة فی سیرة ام البنین (سلام اللہ علیہا)، شیخ مہدی تاج الدین، صفحہ 36

تاریخ میں آیا ہے کہ حضرت خانم خدیجہ کبریٰ (سلام اللہ علیہا) ایک اصیل، باشرافت، اہلِ علم و ادب اور مالدار خاندان سے تھیں۔ اور حضرت امام صادق (علیہ السلام) کی یہ روایت اس موضوع کی تاکید کرتی ہے:
«…و کانت خدیجه امرأه حازمه لبیبه و هی یومئذ أوسط قریش نسباً و أعظمهم شرفاً و أکثرهم مالاً، و کل قومها قد کان حریصاً علی ذلک لو یقدر علیه…»

«وہ ایک ہوشمند اور دانا خاتون تھیں اور اس زمانے میں تمام قریشیوں سے بڑھ کر بلند نسب، باوقار شرافت اور بے پناہ دولت رکھتی تھیں۔ ان کی پوری قوم اس بات کی خواہش مند تھی کہ ان سے شادی کرے۔»

کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ، جلد 1، صفحہ 509

اسی طرح ایک اور حدیث میں امام صادق (علیہ السلام) انہیں «سیدۂ نساء قریش» کے نام سے یاد کرتے ہیں:

«وَ هِیَ سَیِّدَةُ نِساءِ قُرَیش وَ قَدْ خَطَبَها کُلُّ صِندیدٍ وَ رَئیسٍ قَدْ أَبَتْهُم فَزَوَّجَتْها نَفْسَها لِلَّذِی بَلَغَها مِنْ خَبَرِ بُحَیراء»
یعنی: وہ قریش کی خواتین کی سردار تھیں۔ تمام بزرگوں اور سرداروں نے ان کے لیے پیغامِ نکاح دیا تھا اور انہوں نے سب کو رد کر دیا، اور اپنے آپ کو اس شخص کی زوجیت میں دے دیا جس کی خبر انہیں بحیرا سے ملی تھی۔

بحار الانوار، جلد 17، صفحہ 231

3️⃣ نسلِ مبارک اور کثیر الخیر (پاکیزہ سرزمین کا سبزہ اپنے رب کے اذن سے اگتا ہے، لیکن ناپاک زمین سے تھوڑا اور بے فائدہ ہی اگتا ہے)
رسولِ خدا کی ان سے محبت اور ان کی شان کے بیان میں یہ کہنا ضروری ہے کہ جب تک وہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہیں، حضرت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی اور شریکِ حیات اختیار نہیں فرمائی۔ نیز ایک اور خصوصیت جو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دیگر ازواج سے ممتاز کرتی ہے، یہ حقیقت ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسل، انوارِ امامت اور سادات فاطمی صرف حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیہا) سے پھیلے، دیگر ازواج سے نہیں۔ امام صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خدیجہ سے، جب وہ فاطمہ (سلام اللہ علیہا) سے حاملہ تھیں، فرمایا:
«هَذَا جَبْرَئِیلُ یُبَشِّرُنِی أَنَّهَا أُنْثَی وَ أَنَّهَا النَّسَمَةُ الطَّاهِرَةُ الْمَیْمُونَةُ، وَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَی سَیَجْعَلُ نَسْلِی مِنْهَا، وَ سَیَجْعَلُ مِنْ نَسْلِهَا أَئِمَّةً فِی الْأُمَّةِ یَجْعَلُهُمْ خُلَفَاءَهُ فِی أَرْضِهِ بَعْدَ انْقِضَاءِ وَحْیِهِ»

«یہ جبرئیل ہیں جو مجھے بشارت دے رہے ہیں کہ یہ بچہ بیٹی ہے … خدائے توانا میری نسل کو اس بیٹی کے ذریعے قائم و پائیدار رکھے گا۔ عنقریب وہ اس بیٹی کی نسل سے ائمہ کو وجود میں لائے گا…»

بحار الانوار، جلد 16، صفحہ 80

⬅️ حضرت خانم خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا، حضرت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ زوجہ ہیں جو نیک شریکِ حیات کی تمام خصوصیات مطلق طور پر رکھتی ہیں، جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے کہ ازوجنا اپنے جمع کے صیغے میں حضرت خانم خدیجہ سلام اللہ علیہا پر دلالت کرتا ہے، اور اسی وجہ سے زیارت کے اس حصے میں ہم انہیں «زوجۃ سید المرسلین» کے لقب سے سلام پیش کرتے ہیں۔
❖   ❖   ❖