کون سا گھر جلایا گیا؟
حصہ ۴
کتابِ مجید میں ہے:
روایت ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) مسجد میں موجود تھے۔ ایک شخص اٹھا اور پوچھا: «أَيُّ بُيُوتٍ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟» — کن گھروں کی بات ہے؟
آپؐ نے فرمایا: ⚜️ «بُيُوتُ الْأَنْبِيَاءِ» — انبیا کے گھر۔
💢 پھر ابوبکر اٹھا اور علی و فاطمہ کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا: «وَهَذَا الْبَيْتُ مِنْهَا؟» — اور کیا یہ گھر بھی ان میں سے ہے؟
آپؐ نے فرمایا: ⚜️ «نَعَمْ مِنْ أَفَاضِلِهَا» [۲] — ہاں، ان میں سب سے بہتر۔
اور ایک اور مقام پر فرمایا: «هِيَ بُيُوتُ الْأَنْبِيَاءِ، وَ بَيْتُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ» [۳]
اور جب آیتِ تطہیر نازل ہوئی:
— تو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) چھ ماہ تک، ہر صبح، اپنا سجادہ بیتِ فاطمی کے دروازے کی طرف بچھاتے — جو مسجد کا قبلہ گاہ تھا — اور نماز پڑھتے؛ پھر پورے قد کے ساتھ اور نہایت احترام سے فرماتے:
💢 اور شیطان خوب جانتا ہے کہ کہاں آگ لگانی ہے۔
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) اس دروازے سے دیرینہ آشنا ہیں۔ یہ اُس کے گھر کا دروازہ ہے جو «أَنَا الْكَعْبَةُ» [۶] کی صدا بلند کرتا ہے — کہ کعبہ کی حقیقت میں ہوں۔ یہ دروازہ امت کا «بابِ حطہ» ہے [۷]۔
جسے فاطمہ (سلام اللہ علیہا) داخلے کی اجازت دیں وہ حصنِ حصین میں نجات یافتہ ہے؛ اور باقی سب قعرِ جہنم کے رہنے والے ہیں۔ یہ «بابُ اللہ» کا مسکن ہے [۸]۔
اور یہ دروازہ ایک برزخ ہے۔ ایک ایسا در جس کا باطن اللہ کی مطلق رحمت ہے — ہستی کی ماں کی آغوش — اور جس کے اُس پار، دروازے کے پیچھے، عذاب ہے اور جہنم کی آگ [۹]۔
💢 کیا ایسا نہیں کہ ان ملعونوں کے لیے قعرِ جہنم میں ایک تابوت ہے، کہ جب بھی اس تابوت کا در کھلتا ہے تو آگ بھڑک اٹھتی ہے اور جہنمیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے؟ [۱۰]
- سورۂ نور، آیت ۳۶
- البرہان فی تفسیر القرآن، ج ۴، ص ۷۷
- بحار الانوار، ج ۱۱، ص ۴۳
- سورۂ احزاب، آیت ۳۳
- زاد المعاد، ج ۱، ص ۲۹۶
- بحار الانوار، ج ۳۸، ص ۱۹۹ · المناقب، ج ۳، ص ۲۰۲
- سورۂ اعراف، آیت ۱۶۱ · اثبات الہداۃ، ج ۲، ص ۱۲۹
- البرہان فی تفسیر القرآن، ج ۴، ص ۲۹۴
- سورۂ حدید، آیت ۱۳
- البرہان فی تفسیر القرآن، ج ۵، ص ۸۱۱