سلسلۂ مباحثِ کوثر — حصہ چہارم
حصہ چہارم
گزشتہ گفتگو میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ایک حوریہ ہیں جو انسانی پیکر میں ظاہر ہوئی ہیں؛ اور جو کچھ بھی ہم حضرت صدیقہ کبریٰ کی معرفت کے بارے میں بیان کرنے سے قاصر ہیں، وہ فاطمی معرفت کا محض آغاز ہے۔
روایت میں ہے کہ رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عائشہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:
فاطمہ میری جنت ہے؛ جب بھی مجھے جنت کی خوشبو کا اشتیاق ہوتا ہے، میں اپنی بیٹی فاطمہ کو سونگھتا ہوں۔
مگر یہ ہم خاک نشینوں والی جنت نہیں؛ بلکہ اُس نبی کی جنت جس کے انوار میں سے ایک نور سے عرشِ الٰہی کو خلق کیا گیا ہے!
آخر کب تک حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کو صرف پردے، گھر داری اور شوہر داری کی حد تک ہی متعارف کرایا جاتا رہے گا؟ یہ صفات تو بہت سی عام عورتوں میں بھی پائی جاتی ہیں؛ تو پھر ہم میں اور اُن میں کیا فرق رہ گیا؟
معارفِ ولایت اور ناموسِ خدا کے بارے میں کلام کرنا ہر دل کے بس کی بات نہیں؛ کیونکہ بارِ ولایت اٹھانا نہایت دشوار ہے۔
امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
بے شک ہمارا امر دشوار اور سخت ہے؛ اسے کوئی برداشت نہیں کر سکتا سوائے مقرب فرشتے، یا مرسل نبی، یا اس مومن بندے کے جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے آزمایا ہو۔
💎 پس ان معارف کو اٹھانا ہر کسی کے بس میں نہیں۔ حضرت فاطمہ، «أمّ الأئمة و الأبرار» (ائمہ اور نیکوکاروں کی ماں) ہیں؛ إِنَّهَا لَيْسَتْ كَنِسَاءِ الآدَمِيِّينَ؛ وہ عام انسانی عورتوں کی مانند نہیں ہیں…
- ¹. ...قَالَ دَخَلَتْ عَايشَهُ عَلَي النَّبِي وَ هُوَ يقَبِّلُ فَاطِمَهَ فَقَالَتْ يا رَسُولَ اللَّهِ اَ تُقَبِّلُهَا وَ هِي ذَاتُ بَعْلٍ فَقَالَ لَهَا ... فَإِذَا اشْتَقْتُ إِلَي رَايحَهِ الْجَنَّهِ شَمِمْتُ رَايحَهَ ابْنَتِي فَاطِمَه(س)
- بحار الانوار ج ۸ ص ۱۹۰؛ تفسیر فرات ص ۷۵؛ کشف الغمہ ج ۱ ص ۴۵۹؛ المناقب ج ۳ ص ۳۳۴
- ². وَ عَنْ سَلَمَهَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ يحْيي عَنْ جَدِّهِ عَنْ اَبِي بَصِيرٍ وَ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ اَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَالِطُوا النَّاسَ بِمَا يعْرِفُونَ وَ دَعُوهُمْ مِمَّا ينْکِرُونَ وَ لَا تَحْمِلُوا عَلَي اَنْفُسِکُمْ وَ عَلَينَا إِنَّ اَمْرَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يحْتَمِلُهُ إِلَّا مَلَکٌ مُقَرَّبٌ اَوْ نَبِي مُرْسَلٌ اَوْ عَبْدٌ مُوْمِنٌ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ
- مستدرک ج ۱۲ ص ۲۹۶؛ بحار الانوار ج ۲۵ ص ۳۴۷؛ بصائر الدرجات ص ۲۶؛ تفسیر فرات کوفی ص ۴۲۷