سلسلۂ مباحثِ کوثر — حصہ سوم
سلسلۂ مباحثِ کوثر
سلسلہ ~۲ منٹ مطالعہ

سلسلۂ مباحثِ کوثر — حصہ سوم

حصہ سوم

پچھلی گفتگو میں بیان ہوا کہ اہلِ بیت خیر کی اصل ہیں، اور اُن کے دشمن شر کی اصل۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی معرفت کی کوئی حد نہیں، جنت میں بھی نہیں۔

علامہ میر جہانی اپنی کتاب «جُنَّۃُ الْعَاصِمَۃ» میں لکھتے ہیں:

اہلِ جنت نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے کہ اچانک پوری جنت نور سے بھر جائے گی۔ وہ اسے سورج سمجھ کر کہیں گے: پروردگار! کیا تُو نے نہیں فرمایا تھا کہ جنت میں سورج نہیں ہوگا؟ جنت کا نگہبان فرشتہ کہے گا: «فاطمہ اور علی مسکرائے ہیں، اور اُن کی مسکراہٹ کے نور سے جنت روشن ہوئی ہے۔»

یہاں سوال ہے: فاطمہ کون ہیں؟ کیا ہم نے خود کو پہچانا ہے کہ اُنہیں پہچان سکیں؟

مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ
جس نے خود کو پہچانا، اُس نے اپنے رب کو پہچانا۔

امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے منسوب اشعار میں ہے:

«وَتَحْسَبُ أَنَّكَ جِرْمٌ صَغِيرٌ،

وَفِيكَ انْطَوَى الْعَالَمُ الْأَكْبَرُ»

«تم خود کو ایک چھوٹا سا وجود سمجھتے ہو، جبکہ تمہارے اندر ایک عظیم عالَم سمایا ہوا ہے۔»

روایت میں ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں انسان کے وجود کی مثال ہیں۔ انسان میں جسم، روح، نفس اور دوسرے مراتب کے عالَم موجود ہیں۔

لہٰذا فاطمہ کی معرفت کا آغاز خودشناسی سے ہوتا ہے؛ اور اگر اُنہیں پہچان لیں تو خود کو بھی پہچان لیں گے۔

معراج میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت کا ایک سیب کھانے کے لیے دیا گیا۔ اُس کی خوشبو جنت کی ہر خوشبو سے بڑھ کر تھی، اور اُسی سے فاطمہ کا نطفہ بنا۔ اسی لیے زیارت میں ہم کہتے ہیں:

السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا تُفَّاحَةَ الْفِرْدَوْسِ
سلام ہو آپ پر، اے جنت کے سیب!

وہ نبی، جن کے ایک نور سے عرشِ الٰہی پیدا ہوا، اُنہیں خدا نے چالیس راتیں عبادت کرنے، حضرت خدیجہ سے دور رہنے اور چالیس دن روزے رکھنے کا حکم دیا، تاکہ فاطمہ کا نطفہ اُن کے صُلب میں رکھا جائے۔

چالیس راتوں کے بعد، اذانِ مغرب پر جبرائیل آئے اور کہا: «یا محمد! نماز اوّل وقت سے مؤخر کریں اور خدیجہ کے پاس جائیں، تاکہ فاطمہ کا نطفہ منعقد ہو۔»

یہ تمام مراحل اِس دنیا میں فاطمہ کے جسمانی ظہور کی تمہید تھے۔ وہ انسانی صورت میں ظاہر ہوئیں، مگر:

إِنَّهَا لَيْسَتْ كَنِسَاءِ الْآدَمِيِّينَ؛ إِنَّهَا حَوْرَاءُ إِنْسِيَّةٌ
وہ عام انسانی عورتوں جیسی نہیں؛ وہ انسانی صورت میں ایک حور ہیں۔
  • قال ابن عباس فبينا اهل الجنه في الجنه إذ راوا ضوء کضوء الشمس و قد اشرقت الجنان بها ...
  • بناء المقالہ، ص ۲۳۹؛ العمدہ، ص ۳۴۹
  • قَالَ النَّبِي مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ ثُمَّ عَلَيکَ مِنَ الْعِلْمِ بِمَا لَا يصِحُّ الْعَمَلُ إِلَّا بِهِ وَ هُوَ الْإِخْلَاصُ
  • بحار الانوار، جلد ۲، ص ۳۲ / جلد ۵۷، ص ۳۲۴ / جلد ۵۸، ص ۹۰ اور ص ۹۹؛ شرح نہج البلاغہ، جلد ۲۰، ص ۲۹۲؛ الصراط المستقیم، جلد ۱، ص ۱۵۶؛
  • دیوان امام علی علیہ السلام، ص ۱۷۵
  • .فَلَمَّا اَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بَدْوَ خَلْقِنَا تَکَلَّمَ بِکَلِمَهٍ فَکَانَتْ نُوراً ثُمَّ تَکَلَّمَ کَلِمَهً ثَانِيهً فَکَانَتْ رُوحاً فَمَزَجَ فِيمَا بَينَهُمَا وَ اعْتَدَلَا فَخَلَقَنِي وَ عَلِياً مِنْهُمَا ثُمَّ فَتَقَ مِنْ نُورِي نُورَ الْعَرْشِ فَاَنَا اَجَلُّ مِنَ الْعَرْش‏
  • کشف الغمہ، جلد ۱، ص ۴۵۹؛ بحار الانوار، جلد ۴۳، ص ۱۷؛ ارشاد القلوب، جلد ۲، ص ۴۰۳
  • وَ رُوِي ... فَنَادَاهُ يا مُحَمَّدُ الْعَلِي الْاَعْلَي يقْرَاُ عَلَيکَ السَّلَامَ وَ هُوَ ياْمُرُکَ اَنْ تَعْتَزِلَ عَنْ خَدِيجَهَ اَرْبَعِينَ صَبَاحاً ... فَاَقْبَلَ عَلَيهِ جَبْرَييلُ وَ قَالَ الصَّلَاهُ مُحَرَّمَهٌ عَلَيکَ فِي وَقْتِکَ حَتَّي تَاْتِي إِلَي مَنْزِلِ خَدِيجَهَ فَتُوَاقِعَهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ آلَي عَلَي نَفْسِهِ اَنْ يخْلُقَ مِنْ صُلْبِکَ فِي هَذِهِ اللَّيلَهِ ذُرِّيهً طَيبَهً ...
  • بحار الانوار، جلد ۱۶، ص ۷۸؛ العدد القویہ، ص ۲۱۹؛ کشف الغمہ، جلد ۱، ص ۵۴۲
  • ابْنُ الْمُتَوَکِّلِ عَنِ الْحِمْيرِي عَنِ ابْنِ يزِيدَ عَنِ ابْنِ فَضَّالٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ سَدِيرٍ الصَّيرَفِي عَنْ اَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ آبَايهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ خُلِقَ نُورُ فَاطِمَهَ قَبْلَ اَنْ يخْلُقَ الْاَرْضَ وَ السَّمَاءَ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ يا نَبِي اللَّهِ فَلَيسَتْ هِي إِنْسِيهً فَقَال فَاطِمَهُ حَوْرَاءُ إِنْسِيهٌ
  • بحار الانوار، جلد ۴۳، ص ۴؛ معانی الاخبار، ص ۳۹۶
❖   ❖   ❖