سلسلۂ مباحثِ کوثر | حصہ دوم
گزشتہ حصے میں ہم نے تفاسیر میں «کوثر» کے مختلف معانی سے آشنائی حاصل کی، اور یہ جانا کہ تمام تفاسیر میں اس کا مشترک اور عمومی معنی الْخَيْرُ الْكَثِيرُ ہے، جو حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام) کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
عربی قواعد میں الْكَوْثَر میں «الف اور لام» عموم اور شمولیت پر دلالت کرتے ہیں؛ یعنی ایسا خیر جو مطلق ہے اور تمام خیرات کو اپنے اندر شامل کیے ہوئے ہے۔
پس «کوثر» کے معنی کی معرفت کے پہلے مرحلے میں ہم دو الفاظ تک پہنچتے ہیں: خَيْر اور كَثِير۔
اب سوال یہ ہے کہ خَيْر، جو کوثر کی روح ہے، اس کے کیا معنی ہیں؟
رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے ساتھ تشریف فرما تھے ایک مسلمان کھڑا ہوا اور اِس آیت کی تلاوت کی:
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دیے، وہی بہترین مخلوق ہیں۔
رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
بے شک یہ شخص اور اس کے تمام شیعہ بہترین بندے ہیں۔
یعنی علی (علیہ السلام) کے شیعوں کی شناخت خَيْر ہے۔
خداوندِ متعال سورۂ ہود، آیت 86 میں فرماتا ہے:
اگر تم مؤمن ہو تو اللہ کی طرف سے باقی رہنے والی چیز تمہارے لیے بہتر ہے۔
حضرت حجت ابن الحسن المہدی (علیہ السلام) کا وہ خاص نام جو قرآن میں استعمال ہوا ہے، بَقِيَّةُ الله ہے، اور حضرت (علیہ السلام) کی شناخت خَيْرٌ لَّكُمْ ہے؛ یعنی «تمہارے لیے خیر ہے۔»
سب سے پہلے ولایتِ علوی کے حصار میں داخل ہونا اور مؤمن ہونا ضروری ہے، اس کے بعد انسان عالمِ خَيْر میں داخل ہوتا ہے۔
یعنی ولایتِ فاطمی، ولایتِ حیدری سے زیادہ خاص ہے، لیکن محبتِ فاطمی، محبتِ حیدری سے زیادہ عام ہے۔
زیارتِ جامعہ کبیرہ میں ہم کہتے ہیں:
«جب خیر کا ذکر کیا جائے تو آپ اہلِ بیت (علیہم السلام) اس کی اصل، اس کی فرع، اس کا معدن، اس کی پناہ گاہ، اور اس کی ابتدا و انتہا ہیں۔»
یعنی عالم کا مطلق خیر، آپ اہلِ بیت (علیہم السلام) ہیں۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں
«ہم ہر خیر کی اصل ہیں، اور ہماری فروع سے تمام نیکیاں ہیں، اور انہی نیکیوں میں سے ایک توحید ہے۔»
اور ہمارے دشمن ہر شر کی اصل ہیں، اور ان کی فروع سے تمام قبیح گناہ اور فواحش وجود میں آتے ہیں۔
حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کی معرفت لامحدود ہے۔ جنت کی نعمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں وہ دنیوی حُجُب، جو معرفتِ فاطمی کے راستے میں حائل ہیں، اٹھا دیے جائیں گے۔ اور جنت میں حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کو بغیر کسی حجاب کے پہچانا جائے گا — اور وہ معرفت بھی لامحدود ہے۔
- سورۂ مبارکہ بینہ، آیت ۷
- بحار الانوار، جلد ۳۵، صفحہ ۳۴۵ اور ۳۴۶ / جلد ۶۵، صفحہ ۱۳۳؛ الامالی (طوسی)، صفحہ ۲۵۱؛ بشارۃ المصطفیٰ، صفحہ ۹۱، ۱۲۲ اور ۱۹۲؛ تاویل الآیات، صفحہ ۸۰۳؛ تفسیر فرات، صفحہ ۵۸۵؛ شواہد التنزیل، جلد ۲، صفحہ ۴۶۷؛ کشف الغمہ، جلد ۱، صفحہ ۱۵۲ اور ۳۹۷۔