حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی زیارت کے فضائل
تمام مضامین
مضمون ~۱۵ منٹ مطالعہ

حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی زیارت کے فضائل

حصہ اول

ویڈیو دیکھیں

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا بلند مقام اور عظیم مرتبہ اُن کے بزرگوار والد، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے نورانی کلام سے آشکار ہوتا ہے، جب آپ نے فرمایا:

"اُن کا باپ اُن پر قربان ہو۔"

حضرت فاطمہ معصومہ، امام رضا کی گرامی قدر بہن، خاندان عصمت و طہارت کی ممتاز اور جلیل القدر خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔

آپ سلام اللہ علیہا نے اپنے عزیز بھائی امام رضا کا خط موصول ہونے کے بعد، اُن سے ملاقات کے شوق میں مدینہ سے خراسان کی جانب سفر کا آغاز فرمایا۔ لیکن یہ ملاقات کبھی نصیب نہ ہو سکی۔ سفر کے دوران آپ سلام اللہ علیہا نے شہر قم میں رحلت فرمائی اور یہی شہر اُس عظیم المرتبت خاتون کی آخری آرام گاہ بن گیا؛ ایک ایسا مقدس حرم جس کی زیارت کے بارے میں اہل بیت کے کلمات میں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔

آپ سلام اللہ علیہا کا روضہ مبارک، اہل بیت کا حرم اور پناہ گاہ ہے۔ امام جعفر صادق فرماتے ہیں:

"ہمارا ایک حرم ہے اور وہ شہر قم ہے۔ عنقریب میری اولاد میں سے فاطمہ نامی ایک خاتون وہاں دفن ہوں گی؛ جو شخص اُن کی زیارت کرے گا، اُس پر جنت واجب ہو جائے گی۔"

امام رضا نے بھی اپنے ایک صحابی سے فرمایا:

اے سعد! تمہاری سرزمین میں ہماری ایک قبر ہے۔

سعد نے عرض کیا: میں آپ پر قربان، کیا آپ کی مراد فاطمہ بنت موسیٰ بن جعفر کی قبر ہے؟

امام نے فرمایا: ہاں؛ جو شخص اُن کی زیارت اس حال میں کرے کہ اُن کے حق اور مقام کی معرفت رکھتا ہو، اُس کے لیے جنت ہے۔

حضرت فاطمہ معصومہ کی زیارت، امام رضا کی زیارت کے مانند ہے؛ جیسا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:

جو شخص قم میں فاطمہ معصومہ کی زیارت کرے، وہ اُس شخص کی مانند ہے جس نے میری زیارت کی ہو۔

خدائے سبحان کی جانب سے شیعیان پر ایک خاص عنایت یہ ہوئی ہے کہ حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی گم شدہ قبر کے بدلے ہمیں ایک ایسی تربت کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے جنت کی خوشبو آتی ہے؛ ایک ایسا نشان جو ہماری مادر گرامی، حضرت فاطمہ زہرا کی ناپید تربت کی یاد دلاتا اور اُس کا قائم مقام ہے۔

اب جبکہ ہم نے حضرت فاطمہ معصومہ کے بے کراں مقام، فضائل اور عظمت کے صرف ایک گوشے کو یاد کیا ہے، آئیے ہم جہاں کہیں بھی ہوں، اپنے دلوں کو اُن کے نورانی حرم کی جانب روانہ کریں اور چشمِ دل سے اُس عظیم المرتبت خاتون کی زیارت کریں۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى فَاطِمَةَ الْمَعْصُومَةِ، وَأَبِيهَا الْإِمَامِ الْكَاظِمِ، وَأَخِيهَا الْإِمَامِ الرِّضَا الْمُرْتَضَى، وَابْنِ أَخِيهَا الْإِمَامِ الْجَوَادِ، بِعَدَدِ مَا أَحَاطَ بِهِ عِلْمُكَ.

حصہ دوم

روایات میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی فضیلت میں آیا ہے:

«مَنْ زَارَهَا عَارِفاً بِحَقِّهَا فَلَهُ الْجَنَّةُ»

جو کوئی بھی آپ کی زیارت کرے، اس حال میں کہ آپ کے حق اور مقام کی معرفت رکھتا ہو، تو جنت اسی کی ہے۔

جنت، دراصل ولایت کی وہ عظیم سلطنت ہے کہ مؤمنین اور مؤمنات، امام کی مقدس بارگاہ کے حوالے سے جتنی معرفت حاصل کرتے ہیں، اسی قدر اس میں سکونت پاتے ہیں۔

اور معصومین کی روایات میں بیان ہوا ہے کہ اس مقام تک پہنچنے کا راستہ، حضرت معصومه کی مقدس بارگاہ کی معرفت میں مضمر ہے۔ اگرچہ عقلیں اس مقدس بارگاہ کی معرفت تک پہنچنے سے قاصر ہیں، اس موقع پر ہم نے حضرت کی فضیلتوں کے سمندر سے صرف ایک قطرے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

فاطمیات میں، صرف حضرت فاطمہ معصومہ ہی وہ ہستی ہیں جن کی مخصوص اور منقول زیارت نامہ موجود ہے جو امام رضا علیہ السلام کی طرف سے صادر ہوا ہے۔

حضرت معصومہ کی زیارت، ایک لحاظ سے زیارت جامعہ کی طرح ہے؛ باوجود اس کے کہ آپ امام کی دختر ہیں، لیکن آپ کی زیارت میں ہم تمام حضراتِ معصومین کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ہم انبیاءِ الٰہی کے سلام سے گزر کر اہل بیت کی مقدس بارگاہ میں قدم رکھتے ہیں۔

حضرت معصومہ کا نورانی اور شریف مرقد وہ تربت ہے جو جنت کی خوشبو دیتی ہے اور سیدہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی مخفی قبر کا نشان ہے۔

اس گہرے تعلق کی علامت کو زیارت نامے کے آغاز ہی میں دیکھا جا سکتا ہے: چونتیس مرتبہ تکبیر، تیتیس مرتبہ تسبیح اور تیتیس مرتبہ تحمید؛ وہی حضرت زہرَا کی تسبیحات۔

آیت اللہ مرعشی نجفی نے چالیس راتوں کے توسل کے بعد، حضرت زہرا کا مدفن پانے کے سلسلے میں عالمِ رؤیا میں سنا:

«عَلَیْکُمْ بِکَرِیمَةِ أَهْلِ الْبَیْتِ»

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہی ارادہ فرمايا ہے کہ حضرت زہرا کا مدفن پوشیدہ رہے اور حضرت معصومہ کا مرقد اس پوشیدہ مدفن کا مظہر اور تجلی گاہ ہو۔

اور ہم جو تاریکیوں کی دنیا کے ساتھ اس نورانی اور ملکوتی حریم میں داخل ہونے کے خواہشمند ہیں، ہمیں تمسک کرنا چاہیے اور تمام ملائکہ سے مدد طلب کرنی چاہیے، تاکہ اس حریم میں جاری حیات، علم اور نور کے فیوضات سے فیضیاب ہو سکیں، اور اسی وجہ سے ہم آپ کی زیارت میں عرض کرتے ہیں:

«فَکُونُوا مَلائِکَةَ اللهِ أَعْوانِی وَکُونُوا أَنْصارِی حَتّی أَدْخُلَ هذِهِ الرُّوضَةِ الشَّریفَةِ المُبارَکَة»

حصہ سوم

اہلِ بیت کے نورانی کلام میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے مقدس و ملکوتی حریم کو «عُشّ آلِ محمد»؛ چنانچہ فرمایا گیا ہے:

«قُمُّ عُشُّ آلِ مُحَمَّدٍ وَمَأْوَى شِيعَتِهِمْ»

''قم، آلِ محمد کا آشیانہ اور ان کے شیعوں کی پناہ گاہ ہے۔''

«عُشّ» درخت کی شاخوں پر پرندے کا آشیانہ ہے؛ وہ جائے سکون اور پناہ گاہ جہاں پرندہ آرام پاتا ہے، اپنے پَر پھیلاتا ہے اور ہر گزند سے محفوظ رہتا ہے۔

لیکن یہ «طائر» کون ہے جو اس آشیانے میں سکون پا سکتا ہے؟

اہل بیت کی روایات میں، «طائر» وہ ہستی ہے جو ملکوتی سیر رکھتی ہے؛ وہ شخص جو امام کی نورانی معرفت حاصل کرکے — جو دین کی حقیقی شناخت ہے — آسمانوں کی وسعتوں کو طے کرتا ہے۔

اور یہ مقدس حریم صرف ایک آشیانہ ہی نہیں، بلکہ ایک مضبوط سپر اور مستحکم حصار بھی ہے۔

شبِ معراج میں، جب رسولِ گرامیِ اسلام نے ابلیسِ ملعون کو اس سرزمین کے اوپر دیکھا کہ وہ شیعوں کو ولایتِ امیرالمؤمنین سے منحرف کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تو آپ نے اسے وہاں سے دور کیا اور فرمایا:

«قُمْ يَا مَلْعُونُ!»

''اٹھ اور دور ہو جا، اے ملعون!''

اور اس کے بعد سے اس مقدس سرزمین کا نام «قم» باقی رہا۔ لہٰذا جو مؤمن ولایت کو قبول کرتے ہوئے اس پناہ گاہ اور حصار میں داخل ہوتا ہے، وہ فتنوں اور بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے۔

اس حقیقت کی تائید امام صادق کی ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے، جس میں فرمایا گیا ہے:

''جب بھی تم پر کوئی بَلا اور رنج آئے تو قم کا رخ کرو؛ کیونکہ قم فاطمیوں کی پناہ گاہ ہے۔''

ایک اور روایت میں امام نے اپنے شیعوں کو ایک عظیم بشارت دی، چنانچہ فرمایا:

''بے شک جنت کے آٹھ دروازے ہیں، جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں۔

''وہاں میری اولاد میں سے ایک خاتون وفات پائیں گی، جن کا نام فاطمہ، دخترِ موسیٰ ہے؛ اور ان کی شفاعت سے میرے تمام شیعے جنت میں داخل ہوں گے۔''

حضرت فاطمہ معصومہ مؤمنین کے دلوں کی دیرینہ آشنا ہیں۔ یہ آشنائی خود خدا نے قائم فرمائی ہے؛ چنانچہ آپ کی زیارت میں ہم عرض کرتے ہیں:

«عَرَّفَ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَحَشَرَنَا فِي زُمْرَتِكُمْ، وَأَوْرَدَنَا حَوْضَ نَبِيِّكُمْ»

اور اسی ملکوتی آشیانے سے ہم وہی وعدہ طلب کرتے ہیں جس کی امام صادق نے بشارت دی ہے:

«يَا فَاطِمَةُ اشْفَعِي لِي فِي الْجَنَّةِ فَإِنَّ لَكِ عِنْدَ اللهِ شَأْنًا مِنَ الشَّأْنِ»

''اے فاطمہ! جنت میں میرے داخلے کے لیے میری شفاعت فرمائیے؛ کیونکہ یقیناً خدا کے نزدیک آپ کا مقام و مرتبہ نہایت بلند ہے۔''

حصہ چہارم

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا، «عالمِ آلِ محمد، امام رضا علیہ السلام کے کوثر» ہیں، اور آپ کا مقدس آستانہ درحقیقت وہ بیتُ اللہ ہے:

«أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ» وہ گھر جس میں ذِکرُ اللہ — جو درحقیقت علمِ آلِ محمد کی معرفت ہے — رفعت پاتا ہے۔

لہٰذا ہر وہ مؤمن جو علم، فضل اور معرفت کے اس لامتناہی چشمۂ کوثر سے سیراب ہونے کی تمنا رکھتا ہے، اسے جان لینا چاہیے کہ یہ مقصد آپ کے آستانِ قدس سے اظہارِ ارادت اور تمسک و اعتصام کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔

یہ وہ حقیقت ہے جو علماء کی سیرت میں مختلف صورتوں میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے؛ جیسے آپ کے حریم میں علمی دروس کے انعقاد کا خصوصی اہتمام، یا آپ کے جوار میں مدفن پانے کی آرزو۔ یہاں اس کی چند مثالیں ذکر کی جاتی ہیں۔

مرحوم آیت اللہ سید محمود مرعشی برسوں تک حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مخفی مدفن کی تلاش میں رہے۔ خواب میں انہیں حکم دیا گیا:

«خداوند نے اس دنیا میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت، جلال اور جبروت، کریمۂ اہلِ بیت کو عطا فرمایا ہے۔»

اسی بنا پر انہوں نے اپنے اہلِ خانہ کو حکم دیا کہ اس آستان سے وابستہ ہو جائیں اور یہیں معتکف رہیں۔

ان کے فرزند، مرحوم سید شہاب الدین مرعشی نجفی نے اپنی وصیت میں لکھا:

«میرے جنازے کو بی بی فاطمہ معصومہ کے روضۂ مطہر پر رکھنا؛ میری عمامہ کا ایک سرا ضریحِ مطہر سے اور دوسرا سرا میرے تابوت سے باندھ دینا، اور پھر میرے مولا حُسَيْنٍ الْمَظْلُومِ کی اپنے اہلِ بیتِ طاہرین سے وداع کی مصیبت پڑھنا۔»

مرحوم علامہ طباطبائی رمضان المبارک کی ہر شام، پیرانہ سالی کے باوجود، پیدل حرم میں حاضر ہوتے؛ ضریح کو بوسہ دیتے اور وہیں اپنا روزہ افطار کرتے تھے۔

مرحوم آیت اللہ خوانساری نے فرمایا:

«میں نے چالیس مرتبہ قرآن ختم کیا ہے اور اسے حضرت معصومہ کے مقدس حضور میں ہدیہ کیا ہے، اور آپ سے درخواست کی ہے کہ حرم میں مجھے ایک قبر عنایت فرمائیں۔»

اور مرحوم آیت اللہ بروجردی کے پاس ایک دن جب کسی ملک کا بادشاہ ملاقات کے لیے قم آیا تو انہوں نے اس سے ملنے سے انکار کر دیا اور فرمایا:

«ایک بادشاہ جو میری زیارت کے لیے آئے، لیکن حضرت معصومہ کی زیارت کے لیے نہ جائے اور بے احترامی کرے، تو یہ اہلِ بیت کی ہتکِ حرمت ہے، اور میں اسے برداشت نہیں کر سکتا۔»

سَيِّدَتِي وَمَوْلَاتِي يَا فَاطِمَةَ الْمَعْصُومَةُ:
«أَسْأَلُ اللهَ أَنْ يُرِيَنَا فِيكُمُ السُّرُورَ وَالْفَرَجَ، وَأَنْ يَجْمَعَنَا وَإِيَّاكُمْ فِي زُمْرَةِ جَدِّكُمْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ»

حصہ پنجم

قرآنِ کریم کی آیات، معارف و حقائقِ الٰہی کا ایک بے کراں سمندر ہیں؛ اور اس کے ہر لفظ اور ہر تعبیر کے پسِ پردہ معانی کے مختلف مراتب پوشیدہہیں۔

سورۂ مبارکۂ شمس میں بھی اللہ تعالیٰ «شمس» اور «قمر» کی قسم کھاکر آسمان کے سورج اور چاند سے ماورا ایک حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے:

«وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ۝ وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا»

قسم ہے سورج کی اور اس کی صبح گاہی روشنی کی؛ اور قسم ہے چاندکی، جب وہ اس کے پیچھے نمودار ہو۔

روایات کی زبان میں «شمس» امام کے وجودِ مقدس کا ایک جلوہ ہے؛ ایساخورشید جس کی انوارِ ولایت جانوں پر تاباں ہوتی ہیں، دلوں کو پاکیزہ کرتیہیں اور مخلوق کے لیے راہِ ہدایت کو روشن کرتی ہیں۔

اہلِ بیت کی مقدس ہستیوں میں حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام کو شمسُ الشُّموس کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔

لیکن اس شمس کے پیچھے ایک قمر بھی ہے، جو اپنی روشنی خورشید سےحاصل کرتا ہے اور اسے دیگر سرزمینوں میں پھیلاتا ہے؛ حضرت فاطمہمعصومہ سلام اللہ علیہا، حضرت رضا کی خواہر؛ وہ عظیم خاتون جو اس بیان میں حقیقتِ «وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا» کی جلوہ گر ہیں۔

اور یہ معنی کس قدر خوبصورتی کے ساتھ آپ کی زندگی کے سفر میںمتجلی ہوا۔  جب حضرت رضا کو مدینہ سے خراسان کی جانب لے جایا گیا، تو حضرت فاطمہ معصومہ بھی اپنے برادر کی جدائی اور اپنے امام کی زیارت کےاشتیاق میں مدینہ سے خراسان کی جانب روانہ ہوئیں۔  گویا ایک قمر اپنے شمس کے پیچھے روانہ ہو گیا تھا۔

حضرت کا قافلہ مدینہ سے روانہ ہوا؛ اور ساداتِ موسوی اور امام زادگانمیں سے جو بھی اس سفر کے راستے میں مختلف مقامات پر منتشر ہوئے، وہ اپنے ساتھ حضرت شمسُ الشُّموس کی انوارِ ولایت کی ایک شعاع ان سرزمینوں تک لے گئے جو بعد میں ان کی جائے پناہ بنیں۔  اور ان سب کے درمیان، یہی قمرِ رضوی تھا جسے تقدیرِ الٰہی سرزمینِ قم تک لے آئی۔

آپ کے وجودِ مقدس نے قم کو نورِ ولایتِ رضوی کے انتشار کا ایک مرکز بنا دیا؛ تاکہ اس بانوی فاطمی کے جوار سے معارفِ آلِ محمد منتشر ہوں اور مشتاق جانیں اپنے شمسِ ولایت کی جانب جانے والی راہ پا سکیں۔

اور یہ نور صرف جغرافیائے قم تک محدود نہ رہا؛ بلکہ اس آستان سے علم و معارفِ آلِ محمد علیہم السلام مختلف سرزمینوں میں پھیلتے گئے، تاکہمشتاق دل ان انوار کی روشنی میں حقیقتِ توحید و ولایت کی راہ پا سکیں۔

اَللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَى اَلسَّيِّدِ اَلْمَعْصُومِ، شَمْسِ الشُّمُوسِ، أَنِيسِ اَلنُّفُوسِ، عَلِيِّ بْنِ مُوسَى اَلرِّضَا علیهِ السلام

حصہ ششم

اہلِ بیت علیہم السلام میں ایک ایسی باعظمت خاتون آرام فرما ہیں، جن کی ولادت سے کئی سال پہلے ہی ائمۂ اطہار علیہم السلام نے ان کے مقام و منزلت کے بارے میں بیان فرمایا تھا؛ نبوت و امامت کے پاکیزہ سلسلے سے تعلق رکھنے والی وہ خاتون، حضرت موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کی دختر، امام رضا علیہ السلام کی خواہر، امام جواد علیہ السلام کی پھوپھی، کریمۂ اہلِ بیت، حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں۔

وہ باعظمت خاتون جن کے حق کی کماحقہ معرفت، کلامِ معصومین علیہم السلام کے مطابق، بندے کے تقرّب اور اس کی زیارت کی قبولیت کی شرط ہے۔

آپ «کریمۂ اہلِ بیت» ہیں۔ «کرم» خیر، جود و سخا اور فضیلت کا جامع ہے؛ اسی لیے آپ کا مقدس آستان بھی سرچشمۂ فیض، بندگانِ خدا کی جائے امن، مخلوق کی پناہ گاہ اور رحمتِ الٰہی کا دروازہ ہے۔

آپ «معصومہ» ہیں۔ «عصمت» کی اصل «عَصْم» ہے، جس کے معنی حفاظت کرنے اور محفوظ رکھنے کے ہیں؛ اسی لیے مؤمنین آپ کی مقدس بارگاہ میں التجا اور تمسک کے ذریعے تطہیر کی راہ پر گامزن ہوتے اور تاریکیوں اور آلودگیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔

آپ «کوثرُ الرضا» ہیں؛ اور کوثر کے معنی «خیرِ کثیر» کے ہیں۔ اس مقام پر آپ کا مبارک وجود علمِ آلِ محمد کی نشر و اشاعت اور کثرت کا سرچشمہ ہے، اور آپ ہی کی برکت سے شہرِ قم بھی معارفِ آلِ محمد کی نشر و اشاعت کا مرکز بن گیا ہے۔

اور کتنا حسین ہے کہ آپ خود بھی «عالِمَہ» ہیں؛ وہ باعظمت خاتون جو بچپن ہی میں، اپنے بزرگوار والد کی عدم موجودگی میں، شیعوں کے سوالات کے جوابات دیا کرتی تھیں، اور امام کاظم علیہ السلام نے آپ کے جوابات ملاحظہ فرما کر تین مرتبہ فرمایا:

اس کا باپ اس پر قربان ہو۔

آپ کا ایک اور لقب «شفیعہ» ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے آپ کے مقامِ شفاعت کے بارے میں فرمایا:

اس کی شفاعت کے ذریعے میرے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوں گے۔

اسی بنا پر حضرت کی مأثور زیارت میں ہم خداوندِ متعال سے اہلِ بیت علیہم السلام کی معرفت پر دوام، ولایت پر ثابت قدمی اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی شفاعت طلب کرتے ہیں۔

اور یہی معرفت، تمسک کا آغاز ہے۔

اس باعظمت خاتون کے دامن سے تمسک، جن کا آستان شیعوں کی پناہ گاہ ہے، اور جن کے مبارک وجود کی برکت سے قم، علمِ آلِ محمد کا مرکز بن گیا؛ تاکہ علماء اور فقہاء اس شمسِ فاطمی کے گرد جمع ہوں اور معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام کے چراغ کو روشن رکھیں۔

اور بالآخر، اس اجتماع اور اعتصام کا ثمر اس آرزو تک پہنچتا ہے جو فرجِ آلِ محمد، یعنی حضرت بقیَّةَ اللهِ الأعظم کا ظہور ہے۔

اور کتنا حسین ہے کہ اس کریمہ خاتون کی زیارت بھی آخر میں زائر کی نگاہ اسی صبحِ موعود کی جانب لگا دیتی ہے، جب وہ کہتا ہے:

«أَسْأَلُ اللهَ أَنْ يُرِيَنَا فِيكُمُ السُّرُورَ وَالْفَرَجَ»
❖   ❖   ❖