حضرت بی بی زینب کبریٰ (س) کی حضرت بی بی خدیجہ کبریٰ (س) سے شباہت
حضرت بی بی زینب کبریٰ (س) کی حضرت بی بی خدیجہ کبریٰ (س) سے شباہت — حصہ ۵
حصہ ۵
دونوں خواتین کی مشابہتوں کے چند پہلو
۴۔ ولایت کی راہ میں مال و ہستی کا ایثار
حضرت خدیجہ کبریٰ (علیہا السلام) نے دین کے استحکام کے لیے اپنا تمام مال دینِ محمدی کی سربلندی پر نثار کر دیا۔ حضرت زینب کبریٰ (علیہا السلام) نے بھی دین اور ولایتِ حسینی کی بقا کے لیے اپنی پوری ہستی (اولاد اور ...) کی قربانی دی۔
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا ایثار:
خَدِيجَةُ وَ أَيْنَ مِثْلُ خَدِيجَةَ؟ صَدَّقَتْنِي حِينَ كَذَّبَنِي النَّاسُ، وَ وَازَرَتْنِي عَلَى دِينِ اللَّهِ، وَ أَعَانَتْنِي عَلَيْهِ بِمَالِهَا. إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبِ الزُّمُرُّدِ لَا صَخَبَ فِيهِ وَ لَا نَصَبَ.
خدیجہ! اور خدیجہ جیسی کہاں ملے گی؟ جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو انہوں نے میری تصدیق کی، اللہ کے دین کی راہ میں میری مدد کی اور اپنے مال سے میرا ساتھ دیا۔ بے شک اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں خدیجہ کو جنت میں زمرد کی نَیوں سے بنے ہوئے ایک گھر کی بشارت دوں، جس میں نہ شور و غل ہے اور نہ رنج و تھکن۔
بحار الانوار، جلد ۴۳، صفحہ ۱۳۱؛ کشف الغمہ، جلد ۱، صفحہ ۳۵۳
وَ كَانَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَهَا مَالٌ كَثِيرٌ فَأَنْفَقَتْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِي الشِّعْبِ.
حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیہا) کے پاس بہت مال تھا، اور انہوں نے رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی شعبِ [ابی طالب] میں موجودگی کے دوران آپ کی حمایت کی راہ میں اسے خرچ کر دیا۔
بحار الانوار، جلد ۱۹، صفحہ ۱–۲
وَ وَجَدَكَ عائِلًا ... فَأَغْنَاكَ اللَّهُ بِمَالِ خَدِيجَةَ
اور آپ کو نادار پایا ... تو اللہ نے خدیجہ کے مال کے ذریعے آپ کو بے نیاز کر دیا۔
تفسیر القمی، جلد ۲، صفحہ ۴۲۷–۴۲۸
بذلت أموالها في رواج الإسلام و تحمّلت في سبيل الله ما تحمّلت و هي فوق مرتبة التّقوى و الوثاقة
انہوں نے اپنا مال اسلام کے فروغ کی راہ میں بخش دیا اور اللہ کی راہ میں بہت سی مشکلات برداشت کیں، اور ان کا مقام تقویٰ اور وثاقت کے مرتبے سے بالاتر تھا۔
حضرت زینب کا ایثار:
حضرت اُمّ المصائب زینبِ کبریٰ (سلام اللہ علیہا) جن کی ساری ہستی اپنے بھائی امام حسین (علیہ السلام) پر قربان تھی
عقیلہ خاتون کے صبر و تحمل کے لیے یہی کافی ہے کہ جب ان کے دونوں بیٹے شہید ہوئے تو وہ خیمے سے باہر نہیں آئیں
❖ ❖ ❖