حضرت بی بی زینب کبریٰ (س) کی حضرت بی بی خدیجہ کبریٰ (س) سے شباہت — حصہ ۴
حصہ ۴
دونوں خواتین کی مشابہتوں کے چند پہلو
۳. ولیِّ خدا کی ہمدمی، تسلی اور پشت پناہی
حضرت خدیجہ کبریٰ (علیہا السلام) پیغمبر (صلوات اللہ علیہ و آلہ) کی انیس و مونس تھیں اور حضرت زینب کبریٰ (علیہا السلام) بھی امام حسین (علیہ السلام) کی یار و غمگسار تھیں۔ حضرت خدیجہ کبریٰ حضرتِ نبوی کے لیے باعثِ تسلی تھیں، اور حضرت زینب کبریٰ حسینی دردوں کے لیے باعثِ سکون تھیں۔
حضرت خدیجہ پیغمبر کی خدمات کی کفیل تھیں، یہ محترمہ بھی بھائی کی خدمات کا بوجھ اٹھاتی رہیں۔ حضرت خدیجہ تمام سختیوں اور گرفتاریوں میں شریک و سہیم رہیں، یہ معظمہ بھی تمام مصائب و نوائب میں اپنے بھائی کے ساتھ شریک رہیں۔
حضرت بی بی خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا کے بارے میں روایات سے شاہد:
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اسلام کی راہ میں سچی اور وفادار مددگار تھیں اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ ان کے پاس سکون پاتے تھے۔
اعلام الوریٰ، صفحہ ۵۳؛ بحار الانوار، جلد ۱۹، صفحہ ۴–۵
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا پہلی شخصیت تھیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں، اور جو کچھ اللہ کی جانب سے نازل ہوا تھا اس کی تصدیق کی اور پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی رسالت کے کام میں مدد کی۔ اسی بنا پر اللہ نے ان کے ذریعے رسولِ خدا پر سختیاں آسان کر دیں۔
... اور جب بھی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ ان کے پاس لوٹتے، اللہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے ذریعے آنحضرت سے غم اور دشواری کو دور فرما دیتا؛ کیونکہ وہ پیغمبر کو حوصلہ اور ثبات دیتیں، ان کی تکلیف اور سختیوں کو کم کرتیں اور لوگوں کی اذیت اور برتاؤ کو ان کی نظر میں آسان اور قابلِ برداشت بنا دیتیں، یہاں تک کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئیں؛ اللہ کی رحمت ان پر ہو۔
بحار الانوار، جلد ۱۶، صفحہ ۱۰–۱۱
حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے بارے میں روایات سے شاہد:
شبِ عاشورا، امام سجاد (ع) نقل کرتے ہیں: وعندي عمتي زينب تمرضني («اور میری پھوپھی زینب میرے پاس تھیں اور میری تیمارداری کر رہی تھیں»)؛ اور حضرت زینب (س) امام حسین کے پاس آئیں اور عرض کیا:
آہ، یہ جاں سوز مصیبت! کاش موت نے مجھ سے زندگی چھین لی ہوتی! آج گویا میری ماں فاطمہ، میرے والد علی اور میرے بھائی حسن علیہم السلام دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ اے گزرے ہوؤں کے جانشین اور باقی رہ جانے والوں کی پناہ و سہارا!
بحار الانوار، جلد ۴۵، صفحہ ۱–۳