امام جعفر صادق علیہ السلام کا اپنے شیعوں کے نام خط
تمام مضامین
مضمون ~۱۴ منٹ مطالعہ

امام جعفر صادق علیہ السلام کا اپنے شیعوں کے نام خط

فہرستِ فقرات

۱   اہلِ ذکر؛ کتابُ اللہ کے معلّم اور علم کے خزانہ دار

۲   حق کی ہدایت، اہلِ ذکر کی تصدیق اور اہلِ بیت علیہم السلام کے علم و آثار کی پیروی پر موقوف ہے

۳   کثرتِ دعا کی تلقین

۴   آثار سے تمسّک اور رسولِ خدا و اہلِ بیت علیہم السلام کی سنّت کی پیروی

۵   سچّے مؤمنوں کے اوصاف

۶   بندے کے لیے اللہ کا ارادۂ خیر

۷   بندے کے لیے اللہ کے ارادۂ خیر نہ ہونے کا نتیجہ

۸   اللہ کا حقیقی مطیع کون ہے

۹   اگر بندہ اصلِ خلقت میں «مؤمن» پیدا کیا گیا ہو

۱۰   اگر بندہ اصلِ خلقت میں «کافر» ہو

۱   اہلِ ذکر؛ کتابُ اللہ کے معلّم اور علم کے خزانہ دار

اِعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ عِلْمِ اَللَّهِ وَ لاَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ يَأْخُذَ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اَللَّهِ فِي دِينِهِ بِهَوًى وَ لاَ رَأْيٍ وَ لاَ مَقَايِيسَ قَدْ أَنْزَلَ اَللَّهُ اَلْقُرْآنَ وَ جَعَلَ فِيهِ تِبْيَانَ كُلِّ شَيْءٍ وَ جَعَلَ لِلْقُرْآنِ وَ لِتَعَلُّمِ اَلْقُرْآنِ أَهْلاً لاَ يَسَعُ أَهْلَ عِلْمِ اَلْقُرْآنِ اَلَّذِينَ آتَاهُمُ اَللَّهُ عِلْمَهُ أَنْ يَأْخُذُوا فِيهِ بِهَوًى وَ لاَ رَأْيٍ وَ لاَ مَقَايِيسَ أَغْنَاهُمُ اَللَّهُ عَنْ ذَلِكَ بِمَا آتَاهُمْ مِنْ عِلْمِهِ وَ خَصَّهُمْ بِهِ وَ وَضَعَهُ عِنْدَهُمْ كَرَامَةً مِنَ اَللَّهِ أَكْرَمَهُمْ بِهَا وَ هُمْ أَهْلُ اَلذِّكْرِ اَلَّذِينَ أَمَرَ اَللَّهُ هَذِهِ اَلْأُمَّةَ بِسُؤَالِهِمْ

جان لو کہ نہ اللہ کے علم میں یہ ہے اور نہ اُس کے حکم میں کہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اپنے دین کو خواہشِ نفس، یا ذاتی رائے، یا قیاس سے حاصل کرے۔ اللہ نے قرآن نازل فرمایا اور اُس میں ہر چیز کا بیان رکھ دیا، اور قرآن کے لیے اور قرآن سیکھنے کے لیے ایک اہل مقرر فرمائے۔ اور جن کو اللہ نے قرآن کا علم عطا کیا، اُن اہلِ علمِ قرآن کے لیے بھی روا نہیں کہ وہ اُس میں خواہش، رائے اور قیاس سے کام لیں؛ کیونکہ اللہ نے اپنے اُس علم کے ذریعے، جو اُنہیں عطا کیا اور جس کے ساتھ اُنہیں مخصوص کیا اور جو اُن کے پاس رکھا — اللہ کی جانب سے ایک کرامت، جس سے اُس نے اُنہیں معزّز کیا — اُنہیں اِس سے بے نیاز کر دیا۔ اور یہی وہ «اہلِ ذکر» ہیں جن سے پوچھنے کا اللہ نے اِس امّت کو حکم دیا ہے۔

۲   حق کی ہدایت، اہلِ ذکر کی تصدیق اور اہلِ بیت علیہم السلام کے علم و آثار کی پیروی پر موقوف ہے

وَ هُمُ اَلَّذِينَ مَنْ سَأَلَهُمْ وَ قَدْ سَبَقَ فِي عِلْمِ اَللَّهِ أَنْ يُصَدِّقَهُمْ وَ يَتَّبِعَ أَثَرَهُمْ أَرْشَدُوهُ وَ أَعْطَوْهُ مِنْ عِلْمِ اَلْقُرْآنِ مَا يَهْتَدِي بِهِ إِلَى اَللَّهِ بِإِذْنِهِ وَ إِلَى جَمِيعِ سُبُلِ اَلْحَقِّ وَ هُمُ اَلَّذِينَ لاَ يَرْغَبُ عَنْهُمْ وَ عَنْ مَسْأَلَتِهِمْ وَ عَنْ عِلْمِهِمُ اَلَّذِي أَكْرَمَهُمُ اَللَّهُ بِهِ وَ جَعَلَهُ عِنْدَهُمْ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ فِي عِلْمِ اَللَّهِ اَلشَّقَاءُ فِي أَصْلِ اَلْخَلْقِ تَحْتَ اَلْأَظِلَّةِ فَأُولَئِكَ اَلَّذِينَ يَرْغَبُونَ عَنْ سُؤَالِ أَهْلِ اَلذِّكْرِ وَ اَلَّذِينَ آتَاهُمُ اَللَّهُ عِلْمَ اَلْقُرْآنِ وَ وَضَعَهُ عِنْدَهُمْ وَ أَمَرَ بِسُؤَالِهِمْ

اور یہ وہ ہستیاں ہیں کہ جو اِن سے پوچھے — اور اللہ کے علم میں پہلے سے یہ گزر چکا ہو کہ وہ اِن کی تصدیق کرے گا اور اِن کے نقشِ قدم کی پیروی کرے گا — تو یہ اُس کی راہنمائی کرتی ہیں اور اُسے علمِ قرآن میں سے اِتنا عطا کرتی ہیں کہ وہ اللہ کے اذن سے اُس تک، اور حق کے تمام راستوں تک پہنچ جائے۔ اور یہ وہ ہیں کہ اِن سے، اور اِن سے سوال کرنے سے، اور اُس علم سے جس کے ساتھ اللہ نے اِنہیں معزّز کیا اور جو اُس نے اِن کے پاس رکھا — کوئی منہ نہیں موڑتا، سوائے اُس کے جس کے لیے اللہ کے علم میں، اصلِ خلقت میں، عالمِ اظلّہ کے تحت، شقاوت لکھی جا چکی ہو۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو اہلِ ذکر سے پوچھنے سے منہ موڑتے ہیں — اُن سے جنہیں اللہ نے قرآن کا علم دیا، اور اپنے پاس سے اُن کے پاس رکھا، اور جن سے پوچھنے کا حکم دیا۔

۳   کثرتِ دعا کی تلقین

أَكثرُوا مِن أَن تَدعُوا اللَّهَ فإِنّ اللَّهَ يُحبُّ مِن عِبادهِ اَلمُؤمنينَ أَن يَدعوهُ و قدْ وَعد اللَّهُ عِبادهُ المُؤمنينَ بِالاستجابةِ و اللَّهُ مُصيّرٌ دُعاءَ المُؤمنينَ يَومَ القيامَةِ لَهُم عَملاً يزِيدهُم بهِ في الجنَّةِ فأكثِروا ذِكر اللَّهِ ما استَطَعتُم في كُلِّ ساعَةٍ مِن ساعاتِ اللَّيلِ و النّهارِ فإِنّ اللَّهَ أَمر بِكَثرةِ اَلذّكرِ لهُ و اَللَّهُ ذَاكرٌ لِمن ذَكَرهُ مِن اَلمُؤمِنِينَ وَ اِعلَموا أنّ اَللَّهَ لَم يَذكُرهُ أحدٌ مِن عِبادهِ المُؤمِنِينَ إلاَّ ذَكرَهُ بِخيرٍ فَأعطُوا اَللَّهَ مِن أنفُسِكمُ الاجتِهادَ في طاعَتهِ فإنَّ اَللَّهَ لا يُدرَكُ شَيءٌ منَ الخيرِ عِندَهُ إِلاَّ بِطاعَتهِ و اِجتِنابِ محَارمِهِ الَّتي حَرَّم اللَّهُ في ظاهِرِ القُرآنِ و باطِنهِ فَإنَّ اَللَّهَ تباركَ و تَعالى قالَ في كِتابهِ و قَولُه الحَقُّ «وَ ذَرُوا ظاهِرَ اَلإثْمِ وَ باطِنهُ»

اللہ سے کثرت کے ساتھ دعا مانگو، کیونکہ اللہ اپنے مؤمن بندوں سے یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اُسے پکاریں؛ اور اللہ نے اپنے مؤمن بندوں سے قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ قیامت کے دن مؤمنوں کی دعا کو اُن کے لیے ایک عمل بنا دے گا، جس کے سبب جنّت میں اُن کے درجات بڑھا دے گا۔ پس جہاں تک ہو سکے، رات اور دن کی ہر گھڑی میں اللہ کا ذکر کثرت سے کرو، کیونکہ اللہ نے اپنے کثرتِ ذکر کا حکم دیا ہے؛ اور مؤمنوں میں سے جو اُسے یاد کرتا ہے، اللہ بھی اُسے یاد کرتا ہے۔ اور جان لو کہ اُس کے مؤمن بندوں میں سے جس نے بھی اُسے یاد کیا، اللہ نے اُسے خیر ہی کے ساتھ یاد کیا۔ پس اپنی جانوں سے اللہ کو اُس کی اطاعت میں کوشش پیش کرو؛ کیونکہ اُس کے پاس جو خیر ہے وہ اُس کی اطاعت کے بغیر، اور اُن حرام چیزوں سے بچے بغیر حاصل نہیں ہوتی جو اللہ نے قرآن کے ظاہر میں اور اُس کے باطن میں حرام کی ہیں۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا — اور اُس کا قول حق ہے: «ظاہری گناہ کو بھی چھوڑ دو اور باطنی کو بھی۔»

۴   آثار سے تمسّک اور رسولِ خدا و اہلِ بیت علیہم السلام کی سنّت کی پیروی

أَيَّتُهَا اَلْعِصَابَةُ اَلْحَافِظُ اَللَّهُ لَهُم أَمْرَهُم عَلَيْكُم بِآثَارِ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سُنَّتِهِ وَ آثَارِ اَلأَئِمَّةِ اَلهُدَاةِ مِنْ أَهلِ بَيتِ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ مِن بَعدِهِ وَ سُنَّتِهِم فَإِنَّهُ مَنْ أَخَذَ بِذَلِكَ فَقَدِ اِهتَدَى وَ مَن تَرَكَ ذَلِكَ وَ رَغِبَ عَنهُ ضَلَّ لِأَنَّهُم هُمُ اَلَّذِينَ أَمَرَ اَللَّهُ بِطَاعَتِهِم وَ وَلاَيَتِهِم وَ قَد قَالَ أَبُونَا رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيهِ وَ آلِهِ اَلمُدَاوَمَةُ عَلَى اَلعَمَلِ فِي اِتِّبَاعِ اَلآثَارِ وَ اَلسُّنَنِ وَ إِن قَلَّ أَرْضَى لِلَّهِ وَ أَنفَعُ عِنْدَهُ فِي اَلعَاقِبَةِ مِنَ اَلاِجتِهَادِ فِي اَلْبِدَعِ وَ اِتِّبَاعِ اَلأَهوَاءِ أَلاَ إِنَّ اِتِّبَاعَ اَلأَهوَاءِ

اے وہ گروہ جس کا معاملہ اللہ اُن کے لیے محفوظ رکھتا ہے! تم پر لازم ہیں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہ کے آثار اور اُن کی سنّت، اور اُن کے بعد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہ کے اہلِ بیت میں سے ہدایت دینے والے ائمّہ کے آثار اور اُن کی سنّت۔ کیونکہ جس نے اِنہیں اختیار کیا وہ ہدایت پا گیا، اور جس نے اِنہیں چھوڑا اور اِن سے منہ موڑا وہ گمراہ ہوا — اِس لیے کہ یہی وہ ہستیاں ہیں جن کی اطاعت اور جن کی ولایت کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اور ہمارے جدّ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: آثار اور سنّتوں کی پیروی میں عمل پر مداومت — خواہ وہ تھوڑی ہی ہو — اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اور انجام کے اعتبار سے اُس کے ہاں زیادہ نفع بخش، بہ نسبت اُس شدید کوشش کے جو بدعتوں اور خواہشات کی پیروی میں کی جائے۔ آگاہ رہو! بے شک خواہشات کی پیروی…

۵   سچّے مؤمنوں کے اوصاف

اِعْلَمُوا أَيَّتُهَا اَلْعِصَابَةُ أَنَّ اَلسُّنَّةَ مِنَ اَللَّهِ قَدْ جَرَتْ فِي اَلصَّالِحِينَ قَبْلُ وَ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اَللَّهَ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ حَقّاً حَقّاً فَلْيَتَوَلَّ «اَللّٰهَ وَ رَسُولَهُ وَ اَلَّذِينَ آمَنُوا» وَ لْيَبْرَأْ إِلَى اَللَّهِ مِنْ عَدُوِّهِمْ وَ يُسَلِّمُ لِمَا اِنْتَهَى إِلَيْهِ مِنْ فَضْلِهِمْ لِأَنَّ فَضْلَهُمْ لاَ يَبْلُغُهُ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ وَ لاَ نَبِيٌّ مُرْسَلٌ وَ لاَ مَنْ دُونَ ذَلِكَ أَ لَمْ تَسْمَعُوا مَا ذَكَرَ اَللَّهُ مِنْ فَضْلِ أَتْبَاعِ اَلْأَئِمَّةِ اَلْهُدَاةِ وَ هُمُ اَلْمُؤْمِنُونَ قَالَ «فَأُولٰئِكَ مَعَ اَلَّذِينَ أَنْعَمَ اَللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِنَ اَلنَّبِيِّينَ وَ اَلصِّدِّيقِينَ وَ اَلشُّهَدٰاءِ وَ اَلصّٰالِحِينَ وَ حَسُنَ أُولٰئِكَ رَفِيقاً»

اے گروہ! جان لو کہ اللہ کی سنّت اِس سے پہلے بھی نیک لوگوں میں جاری ہو چکی ہے۔ اور آپؑ نے فرمایا: جسے یہ بات خوش کرے کہ وہ اللہ سے اِس حال میں ملے کہ وہ سچّا، بالکل سچّا مؤمن ہو، تو اُسے چاہیے کہ «اللہ اور اُس کے رسول اور اُن لوگوں کو جو ایمان لائے» اپنا ولی بنائے، اور اللہ کے حضور اُن کے دشمن سے بیزاری اختیار کرے، اور اُن کے فضل میں سے جو کچھ اُس تک پہنچے اُس پر تسلیم ہو؛ کیونکہ اُن کے فضل تک نہ کوئی مقرّب فرشتہ پہنچ سکتا ہے، نہ کوئی مرسل نبی، اور نہ اُن سے کمتر کوئی۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ نے ہدایت دینے والے ائمّہ کے پیروکاروں کے فضل کے بارے میں کیا فرمایا — اور وہی مؤمن ہیں؟ فرمایا: «پس یہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا: انبیاء، صدّیقین، شہداء اور صالحین میں سے؛ اور یہ کیا ہی اچھے رفیق ہیں۔»

۶   بندے کے لیے اللہ کا ارادۂ خیر

وَ اِعْلَمُوا أَنَّ اَللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْراً شَرَحَ «صَدْرَهُ لِلْإِسْلاٰمِ» فَإِذَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ أَنْطَقَ لِسَانَهُ بِالْحَقِّ وَ عَقَدَ قَلْبَهُ عَلَيْهِ فَعَمِلَ بِهِ فَإِذَا جَمَعَ اَللَّهُ لَهُ ذَلِكَ تَمَّ لَهُ إِسْلاَمُهُ وَ كَانَ عِنْدَ اَللَّهِ إِنْ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ اَلْحَالِ مِنَ اَلْمُسْلِمِينَ حَقّاً

اور جان لو کہ جب اللہ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو «اُس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے»؛ اور جب یہ اُسے عطا کر دیتا ہے تو اُس کی زبان کو حق سے گویا کرتا ہے اور اُس کے دل کو اُس پر جما دیتا ہے، پس وہ اُس پر عمل کرتا ہے۔ اور جب اللہ یہ سب اُس کے لیے جمع کر دیتا ہے تو اُس کا اسلام مکمل ہو جاتا ہے؛ اور اگر وہ اِسی حال پر مر جائے تو اللہ کے نزدیک سچّے مسلمانوں میں سے ہے۔

۷   بندے کے لیے اللہ کے ارادۂ خیر نہ ہونے کا نتیجہ

إِذَا لَمْ يُرِدِ اَللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْراً وَكَلَهُ إِلَى نَفْسِهِ وَ كَانَ صَدْرُهُ «ضَيِّقاً حَرَجاً» فَإِنْ جَرَى عَلَى لِسَانِهِ حَقٌّ لَمْ يُعْقَدْ قَلْبُهُ عَلَيْهِ وَ إِذَا لَمْ يُعْقَدْ قَلْبُهُ عَلَيْهِ لَمْ يُعْطِهِ اَللَّهُ اَلْعَمَلَ بِهِ فَإِذَا اِجْتَمَعَ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى يَمُوتَ وَ هُوَ عَلَى تِلْكَ اَلْحَالِ كَانَ عِنْدَ اَللَّهِ مِنَ اَلْمُنَافِقِينَ وَ صَارَ مَا جَرَى عَلَى لِسَانِهِ مِنَ اَلْحَقِّ اَلَّذِي لَمْ يُعْطِهِ اَللَّهُ أَنْ يُعْقَدَ قَلْبُهُ عَلَيْهِ وَ لَمْ يُعْطِهِ اَلْعَمَلَ بِهِ حُجَّةً عَلَيْهِ

اور جب اللہ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ نہیں کرتا تو اُسے اُس کے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے، اور اُس کا سینہ «تنگ اور بھنچا ہوا»ہو جاتا ہے۔ پھر اگر حق اُس کی زبان پر جاری بھی ہو جائے تو اُس کا دل اُس پر نہیں جمتا؛ اور جب اُس کا دل اُس پر نہ جمے تو اللہ اُسے اُس پر عمل کی توفیق نہیں دیتا۔ اور جب یہ حالت اُس پر جمع ہو جائے، یہاں تک کہ وہ اِسی حال میں مر جائے، تو وہ اللہ کے نزدیک منافقوں میں سے ہے؛ اور وہی حق جو اُس کی زبان پر جاری ہوا — جس پر نہ اللہ نے اُس کے دل کو جمایا اور نہ اُس پر عمل کی توفیق دی — خود اُس کے خلاف حجّت بن جاتا ہے۔

۸   اللہ کا حقیقی مطیع کون ہے

وَ اَللَّهِ لاَ يُطِيعُ اَللَّهَ عَبْدٌ أَبَداً إِلاَّ أَدْخَلَ اَللَّهُ عَلَيْهِ فِي طَاعَتِهِ اِتِّبَاعَنَا وَ لاَ وَ اَللَّهِ لاَ يَتَّبِعُنَا عَبْدٌ أَبَداً إِلاَّ أَحَبَّهُ اَللَّهُ وَ لاَ وَ اَللَّهِ لاَ يَدَعُ أَحَدٌ اِتِّبَاعَنَا أَبَداً إِلاَّ أَبْغَضَنَا وَ لاَ وَ اَللَّهِ لاَ يُبْغِضُنَا أَحَدٌ أَبَداً إِلاَّ عَصَى اَللَّهَ وَ مَنْ مَاتَ عَاصِياً لِلَّهِ أَخْزَاهُ اَللَّهُ وَ أَكَبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي اَلنَّارِ

اللہ کی قسم! کسی بندے نے کبھی اللہ کی اطاعت نہیں کی مگر یہ کہ اللہ نے اپنی اُسی اطاعت میں ہماری پیروی کو بھی داخل کر دیا۔ نہیں، اللہ کی قسم! کسی بندے نے کبھی ہماری پیروی نہیں کی مگر یہ کہ اللہ نے اُس سے محبّت کی۔ نہیں، اللہ کی قسم! کسی نے کبھی ہماری پیروی نہیں چھوڑی مگر یہ کہ اُس نے ہم سے بغض رکھا۔ نہیں، اللہ کی قسم! کسی نے کبھی ہم سے بغض نہیں رکھا مگر یہ کہ اُس نے اللہ کی نافرمانی کی؛ اور جو اللہ کی نافرمانی کی حالت میں مرا، اللہ اُسے رسوا کرے گا اور اُسے اوندھے منہ آگ میں ڈال دے گا۔

۹   اگر بندہ اصلِ خلقت میں «مؤمن» پیدا کیا گیا ہو

إِنَّ اَلْعَبْدَ إِذَا كَانَ خَلَقَهُ اَللَّهُ فِي اَلْأَصْلِ أَصْلِ اَلْخَلْقِ مُؤْمِناً لَمْ يَمُتْ حَتَّى يُكَرِّهَ اَللَّهُ إِلَيْهِ اَلشَّرَّ وَ يُبَاعِدَهُ عَنْهُ وَ مَنْ كَرَّهَ اَللَّهُ إِلَيْهِ اَلشَّرَّ وَ بَاعَدَهُ عَنْهُ عَافَاهُ اَللَّهُ مِنَ اَلْكِبْرِ أَنْ يَدْخُلَهُ وَ اَلْجَبَرِيَّةِ فَلاَنَتْ عَرِيكَتُهُ وَ حَسُنَ خُلُقُهُ وَ طَلُقَ وَجْهُهُ وَ صَارَ عَلَيْهِ وَقَارُ اَلْإِسْلاَمِ وَ سَكِينَتُهُ وَ تَخَشُّعُهُ وَ وَرِعَ عَنْ مَحَارِمِ اَللَّهِ وَ اِجْتَنَبَ مَسَاخِطَهُ وَ رَزَقَهُ اَللَّهُ مَوَدَّةَ اَلنَّاسِ وَ مُجَامَلَتَهُمْ وَ تَرْكَ مُقَاطَعَةِ اَلنَّاسِ وَ اَلْخُصُومَاتِ وَ لَمْ يَكُنْ مِنْهَا وَ لاَ مِنْ أَهْلِهَا فِي شَيْءٍ

بے شک جب اللہ نے کسی بندے کو اصلِ خلقت میں مؤمن پیدا کیا ہو، تو وہ نہیں مرتا یہاں تک کہ اللہ برائی کو اُس کی نظر میں ناپسندیدہ بنا دے اور اُسے اُس سے دور کر دے۔ اور جس کے لیے اللہ نے برائی کو ناپسندیدہ بنایا اور اُسے اُس سے دور کیا، اللہ اُسے اِس سے محفوظ رکھتا ہے کہ تکبّر اور سرکشی اُس میں داخل ہو؛ پس اُس کی طبیعت نرم ہو جاتی ہے، اُس کا اخلاق اچھا ہو جاتا ہے، اُس کا چہرہ کھلا ہوا ہو جاتا ہے، اور اُس پر اسلام کا وقار، اُس کی سکینت اور خشوع طاری ہو جاتا ہے؛ وہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرتا ہے اور اُن کاموں سے بچتا ہے جو اُس کی ناراضی کا سبب ہوں۔ اور اللہ اُسے لوگوں کی محبّت، اُن کے ساتھ خوش سلوکی، اور لوگوں سے قطع تعلقی اور جھگڑوں کے ترک کی توفیق عطا کرتا ہے، یہاں تک کہ نہ اُن جھگڑوں سے اُس کا کوئی واسطہ رہتا ہے اور نہ اُن کے اہل سے۔

۱۰   اگر بندہ اصلِ خلقت میں «کافر» ہو

إِنَّ اَلْعَبْدَ إِذَا كَانَ اَللَّهُ خَلَقَهُ فِي اَلْأَصْلِ [أَصْلِ اَلْخَلْقِ] كَافِراً لَمْ يَمُتْ حَتَّى يُحَبِّبَ إِلَيْهِ اَلشَّرَّ وَ يُقَرِّبَهُ مِنْهُ فَإِذَا حَبَّبَ إِلَيْهِ اَلشَّرَّ وَ قَرَّبَهُ مِنْهُ اُبْتُلِيَ بِالْكِبْرِ وَ اَلْجَبَرِيَّةِ فَقَسَا قَلْبُهُ وَ سَاءَ خُلُقُهُ وَ غَلُظَ وَجْهُهُ وَ ظَهَرَ فُحْشُهُ وَ قَلَّ حَيَاؤُهُ وَ كَشَفَ اَللَّهُ سِتْرَهُ وَ رَكِبَ اَلْمَحَارِمَ فَلَمْ يَنْزِعْ عَنْهَا وَ رَكِبَ مَعَاصِيَ اَللَّهِ وَ أَبْغَضَ طَاعَتَهُ وَ أَهْلَهَا فَبُعْدٌ مَا بَيْنَ حَالِ اَلْمُؤْمِنِ وَ حَالِ اَلْكَافِرِ

اور بے شک جب اللہ نے کسی بندے کو اصلِ خلقت میں کافر پیدا کیا ہو، تو وہ نہیں مرتا یہاں تک کہ اللہ برائی کو اُس کے لیے محبوب بنا دے اور اُسے اُس کے قریب کر دے۔ اور جب برائی اُس کے لیے محبوب بنا دی جائے اور وہ اُس کے قریب کر دیا جائے، تو وہ تکبّر اور سرکشی میں مبتلا ہو جاتا ہے؛ پس اُس کا دل سخت ہو جاتا ہے، اُس کا اخلاق بگڑ جاتا ہے، اُس کا چہرہ درشت ہو جاتا ہے، اُس کی بے حیائی ظاہر ہو جاتی ہے اور اُس کی شرم کم ہو جاتی ہے؛ اللہ اُس کا پردہ فاش کر دیتا ہے؛ وہ حرام کاموں کا مرتکب ہوتا ہے اور اُن سے باز نہیں آتا؛ وہ اللہ کی نافرمانیوں پر اُتر آتا ہے اور اُس کی اطاعت اور اہلِ اطاعت سے بغض رکھتا ہے۔ پس مؤمن کی حالت اور کافر کی حالت میں کتنا فاصلہ ہے!

رسول اللہ کے اسماء اور القاب صلى الله عليه وآله وسلم قرآنِ کریم کی آیات میں (1) مبارک لقب: «العَالِم» — جاننے والے وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ وَ رَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُض

❖   ❖   ❖