حضرت بی بی زینب کبریٰ (س) کی حضرت بی بی خدیجہ کبریٰ (س) سے شباہت — حصہ ۷
حضرت بی بی زینب کبریٰ (س) کی حضرت بی بی خدیجہ کبریٰ (س) سے شباہت
سلسلہ ~۴ منٹ مطالعہ

حضرت بی بی زینب کبریٰ (س) کی حضرت بی بی خدیجہ کبریٰ (س) سے شباہت — حصہ ۷

حصہ ۷

دونوں خواتین کی مشابہتوں کے چند پہلو

۷. حیا، عفت اور پردہ داری

حضرت خدیجہ:

وَ أَكْثَرِهِنَّ عِفَّةً وَ دِيناً وَ حَيَاءً
اور ان سب میں سب سے زیادہ پاک دامن، دین دار اور باحیا

ریاحین الشریعہ، جلد ۲، صفحہ ۲۰۴

حضرت زینب:

هِیَ عَقیلَةُ بَنی‌هاشِمٍ وَ قَدْ حازَتْ مِنَ الصِّفاتِ الْحَمیدَةِ ما لَمْ یُحزْها بَعْدَ اُمِّها اَحَدٌ حَتّی حَقَّ اَنْ یُقالَ هِیَ الصِّدّیقَةُ الصُّغْری، هِیَ فِی الْحِجابِ وَ الْلِّفافِ مَزیدَةٌ لَمْ یَرَ شَخْصَها اَحَدٌ مِنَ الرِّجالِ فی زَمانِ اَبیها وَ اَخَوَیْها اِلّا یَوْمَ الطَّفِّ، وَ هِیَ فِی الصَّبْرِ وَ الثَّباتِ وَ قُوَّةِ الْایمانِ وَ التَّقْوی وَحیدَةٌ، وَ هِیَ فِی الْفَصاحَةِ وَ الْبَلاغَةِ کَاَنَّها تَفْرَغُ عَنْ لِسانِ اَمیرِالْمُؤْمِنینَ
وہ بنی ہاشم کی عقیلہ ہیں اور انہوں نے ایسی پسندیدہ صفات حاصل کیں جو اپنی والدہ کے بعد کسی نے حاصل نہ کیں، یہاں تک کہ یہ کہنا بجا ہے کہ وہ صدیقۂ صغریٰ ہیں۔ حجاب اور پردہ داری میں وہ سب سے بڑھ کر تھیں: اپنے والد اور دونوں بھائیوں کے زمانے میں کسی مرد نے ان کا وجود نہیں دیکھا سوائے روزِ طف کے۔ اور صبر، ثابت قدمی، قوتِ ایمان اور تقویٰ میں وہ بے مثال تھیں، اور فصاحت و بلاغت میں گویا امیرالمؤمنین کی زبان سے کلام کر رہی تھیں

مستدرک سفینۃ البحار، جلد ۴، صفحہ ۳۱۳

یحییٰ مازنی نقل کرتے ہیں کہ وہ مدتوں مدینہ میں امیرالمؤمنین (ع) کے ہمسائے میں رہے اور ایک بار بھی کسی نے حضرت زینب کو نہیں دیکھا اور نہ ان کی آواز سنی۔

ریاحین الشریعہ، جلد ۳، صفحہ ۴۶

۸. ایمان اور ولایت میں سبقت؛ نیابت و وصایت

حضرت خدیجہ، پہلی مومنہ خاتون اور علی (ع) کی بیعت کرنے والی:

يَا خَدِيجَةُ! هَذَا عَلِيٌّ مَوْلَاكِ وَ مَوْلَى الْمُؤْمِنِينَ وَ إِمَامُهُمْ بَعْدِي. قَالَتْ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ بَايَعْتُهُ عَلَى مَا قُلْتَ، أُشْهِدُ اللَّهَ وَ أُشْهِدُكَ بِذَلِكَ وَ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً.
اے خدیجہ! یہ علی تمہارے مولا ہیں اور تمام مومنین کے مولا ہیں اور میرے بعد ان کے امام ہیں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے سچ فرمایا؛ جو کچھ آپ نے فرمایا اس پر میں نے ان کی بیعت کر لی ہے۔ میں اللہ کو گواہ بناتی ہوں اور آپ کو بھی اس پر گواہ بناتی ہوں، اور گواہی کے لیے اللہ کافی ہے۔

بحار الانوار، جلد ۱۸، صفحہ ۲۳۱

حضرت زینب، امام حسین (ع) کی نائبِ خاص:

فَقُلْتُ: إِلَى مَنْ تَفْزَعُ الشِّيعَةُ؟ فَقَالَتْ: إِلَى الْجَدَّةِ أُمِّ أَبِي مُحَمَّدٍ ... فَقَالَتْ: اقْتِدَاءً بِالْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ أَوْصَى إِلَى أُخْتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ عَلِيٍّ فِي الظَّاهِرِ، وَ كَانَ مَا يَخْرُجُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ مِنْ عِلْمٍ يُنْسَبُ إِلَى زَيْنَبَ سَتْراً عَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ
میں نے کہا: شیعہ کس کی طرف رجوع کریں؟ انہوں نے کہا: دادی کی طرف، ابو محمد کی والدہ کی طرف ... پھر انہوں نے کہا: حسین بن علی کی پیروی میں؛ کیونکہ حسین بن علی نے ظاہری طور پر اپنی بہن زینب بنت علی کو وصیت کی تھی، اور علی بن الحسین سے جو علم صادر ہوتا تھا وہ علی بن الحسین کی پردہ پوشی کے لیے زینب کی طرف منسوب کیا جاتا تھا

کمال الدین، جلد ۲، صفحہ ۵۰۱

حضرت زینب (س) کو امام حسین (ع) کی جانب سے نیابتِ خاص حاصل تھی اور لوگ حلال و حرام کے احکام میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔

اثبات الوصیہ، صفحہ ۲۷۲

۹. مومنوں کی ماں اور مصیبتوں کی ماں

حضرت خدیجہ «مومنوں کی ماں» ہیں:

يا خديجة أنت خير أمهات المؤمنين و أفضلها و سيدة نساء العالمين
اے خدیجہ، آپ مومنین کی ماؤں میں سب سے بہتر اور سب سے افضل ہیں اور تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں

الخصال، جلد ۲، صفحہ ۴۱۸

اور حضرت زینب «مصیبتوں کی ماں» ہیں:

السَّلامُ عَلَيْكِ يا عَمَّةَ وَلِيِّ اللهِ المُكَرَّمِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يا أُمَّ المَصائِبِ يا زَيْنَبُ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَكاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الصِّدِّيقَةُ المَرْضِيَّةُ
آپ پر سلام ہو اے ولیِ خدا کی پھوپھی، جنہیں عزت بخشی گئی۔ آپ پر سلام ہو اے مصیبتوں کی ماں، اے زینب، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔ آپ پر سلام ہو اے سچی اور پسندیدہ خاتون

زیارتِ حضرت زینب کا ایک فقرہ

❖   ❖   ❖