خطبۂ متقین، حصہ ۳ — ان کی چال اور زندگی گزارنے کا انداز تواضع اور عاجزی سے آراستہ ہوتا ہے
امیرالمؤمنین علیہ السلام خطبۂ متقین میں متقین کی تیسری صفت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
یعنی ان کی چال اور زندگی گزارنے کا انداز تواضع اور عاجزی سے آراستہ ہوتا ہے۔
اس صفت کی ایک نہایت خوبصورت مثال مالک اشتر کی زندگی میں ملتی ہے۔
ایک دن مالک اشتر کوفہ کے بازار سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے موٹے کپڑے کا کُرتا اور سادہ سا عمامہ پہن رکھا تھا۔ جب وہ دکانوں کے پاس سے گزرے تو بازار کے ایک شخص نے، جو اپنی دکان کے سامنے بیٹھا تھا، خشک مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھایا اور ان کی توہین کرنے کی نیت سے ان کی طرف پھینک دیا۔
لیکن مالک اشتر اس شخص کی نازیبا حرکت کی طرف توجہ دیے یا کوئی ردِعمل ظاہر کیے بغیر اپنے راستے پر چلتے رہے۔
جب مالک آگے نکل گئے تو اس شخص کے ایک دوست نے اس سے پوچھا:
کیا تم جانتے ہو کہ جس شخص کی تم نے توہین کی، وہ کون تھے؟
اس نے جواب دیا:
نہیں، وہ کون تھے؟
اس کے دوست نے کہا:
وہ مالک اشتر تھے، امیرالمؤمنین علیہ السلام کے نمایاں ترین اصحاب میں سے ایک۔
جیسے ہی اس شخص کو معلوم ہوا کہ جس کی اس نے توہین کی ہے، وہ امام علی علیہ السلام کی فوج کے سپہ سالار اور وزیرِ جنگ ہیں، وہ خوف اور گھبراہٹ سے کانپنے لگا اور معافی مانگنے کے لیے تیزی سے مالک اشتر کی تلاش میں نکل پڑا۔
آخرکار اس نے انہیں مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ وہ ان کی نماز ختم ہونے تک انتظار کرتا رہا، پھر ان کے قدموں میں گر پڑا اور بار بار ان کے پاؤں چومنے لگا۔
مالک نے اس سے اس عمل کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا:
میں آپ کے ساتھ کیے گئے اپنے برے سلوک پر معافی چاہتا ہوں، اور امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے معاف کر دیں گے اور میری خطا سے درگزر فرمائیں گے۔
مالک نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا:
اپنے دل میں ہرگز خوف اور پریشانی کو جگہ نہ دو۔ خدا کی قسم، میں اس مسجد میں صرف اس لیے آیا ہوں کہ اللہ سے تمہارے لیے رحمت اور مغفرت طلب کروں اور اس سے دعا کروں کہ وہ تمہیں صراطِ مستقیم کی ہدایت عطا فرمائے۔
ایسی تھی مالک اشتر کی تواضع؛ انہوں نے توہین کے مقابلے میں صبر سے کام لیا اور اس کا جواب رحمت کی طلب اور دعا سے دیا۔
حوالہ جات
- ماخذ: بحار الانوار، جلد ۴۲، صفحہ ۱۵۷۔