خطبۂ متقین، حصہ ۱ — متقین کی گفتار درست اور نیک ہوتی ہے
ہَمّام، جو ایک عابد و زاہد شخص تھے، ایک دن امام علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور امام سے یوں درخواست کی:
اے امیر المومنین، متقین کو میرے سامنے اس طرح بیان فرمائیے کہ گویا میں انہیں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں۔
امام علی نے مختصر توقف کے بعد اللہ کے کلام سے جواب دیا:
بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو نیکوکار ہیں۔
پھر امام نے فرمایا:
اے ہَمّام، اللہ سے ڈرو اور نیکی کرو، کیونکہ اللہ متقین اور نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔
لیکن ہَمّام اس پر مطمئن نہ ہوئے اور اصرار کرتے رہے کہ امام مزید متقین کے بارے میں بیان فرمائیں۔ چنانچہ امام نے متقین کی صفات بیان کرنا شروع کیں۔
خطبہ متقین میں امام کی بیان کردہ پہلی صفت یہ ہے: نیک اور درست گفتار
امام نے متقین کے بارے میں یوں فرمایا:
متقین کی گفتار درست اور نیک ہوتی ہے۔
یہ صفت قرآن کریم میں بھی بیان ہوئی ہے، جہاں اللہ فرماتا ہے:
میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ ایسی بات کہیں جو بہترین ہو۔
امام علی علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا:
عقل انسان کو درست گفتار کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
اس فضیلت کی سب سے نمایاں مثالوں میں سے ایک فِضّہ خاتون تھیں۔
اہل بیت علیہم السلام نے ان کے بارے میں فرمایا: ”منا اہل البیت“، یعنی وہ اہل بیت میں سے ہیں۔ وہ پہلی صدی ہجری میں قرآن کی پہلی مفسرہ اور علمِ قرآن کی حامل تھیں۔ اہل بیت علیہم السلام کی قربت کی وجہ سے، جو ناطق قرآن تھے، اور قرآن کے ساتھ گہری وابستگی کے باعث، وہ اس مقام پر پہنچ گئیں کہ صرف قرآن کی زبان میں گفتگو کرتی تھیں۔
جیسا کہ نقل ہوا ہے، فِضّہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خادمہ، بیس سال تک صرف قرآن کریم کی آیات کے ذریعے گفتگو کرتی رہیں۔
حوالہ جات
- سورۂ مبارکہ بنی اسرائیل (الاسراء)، آیت مبارکہ ۵۳
- غرر الحکم
- بحار الانوار، جلد ۴۳، صفحہ ۸۷
- عوالم العلوم و المعارف، جلد ۱۱، صفحہ ۱۰۴۳