حضرت عبدالعظیم الحسنی علیہ السلام
تمام مضامین
شیعہ کیلنڈر کا اعلان ~۴ منٹ مطالعہ

حضرت عبدالعظیم الحسنی علیہ السلام

آپ کی ولادتِ باسعادت کا دن

💫 چہارم ربیع الثانی، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی اولاد میں سے حضرت عبدالعظیم الحسنی کی ولادتِ باسعادت کا دن مبارک ہو۔

🌹 آپ کی عظمت کے بیان میں یہی کافی ہے کہ حضرت امام علی النقی علیہ السلام آپ کی زیارت کا ثواب حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی زیارت کے ثواب کے برابر قرار دیتے ہیں:

❞ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الْحَسَنِ الْعَسْكَرِيِّ ع فَقَالَ أَيْنَ كُنْتَ قُلْتُ زُرْتُ الْحُسَيْنَ ع
قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ زُرْتَ قَبْرَ عَبْدِ الْعَظِيمِ عِنْدَكُمْ لَكُنْتَ كَمَنْ زَارَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ع. ❝

❞ میں ابوالحسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا: «کہاں تھے؟» میں نے عرض کیا: «امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے گیا تھا۔»

آپ نے فرمایا: «آگاہ رہو! اگر تم عبدالعظیم کی قبر کی، جو تمہارے پاس ہی ہے، زیارت کرتے تو اُس شخص کی مانند ہوتے جس نے حسین بن علی علیہما السلام کی زیارت کی ہو۔» ❝

📚 کامل الزیارات، النص، صفحہ ۳۲۴

✨ کتابِ شریف مفاتیح الجنان میں آپ کے بارے میں یوں آیا ہے:

«شہرِ رے میں آپ کی قبر معلوم و مشہور اور عام لوگوں کی پناہ گاہ رہی ہے، اور آپ کے مقام کی بلندی اور شان کی جلالت سورج سے بھی زیادہ روشن ہے؛ کیونکہ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ کے خاندان سے ہونے کے علاوہ، اکابرِ محدثین، اعاظمِ علماء، زہّاد و عبّاد میں سے اور صاحبِ ورع و تقویٰ ہیں۔»

🌹 آپ نے امام رضا، امام جواد اور امام علی النقی علیہم السلام کی محضر پائی۔ روایت میں ہے کہ ایک دن ایک شخص امام نقی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے حلال و حرام کے مسائل پوچھے۔ امام نے اسے جواب دیا اور رخصت کے وقت اس سے فرمایا:

❞ اے حماد! جب کبھی تمہیں اپنے دین کے کسی معاملے میں مشکل پیش آئے تو اُسے عبدالعظیم حسنی سے پوچھ لینا، اور میرا سلام اُن تک پہنچا دینا۔ ❝

📚 مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، جلد ۱۷، صفحہ ۳۲۱

📜 نجاشی اپنی کتابِ رجال میں آپ کی طرزِ زندگی کے بارے میں لکھتے ہیں:

«جناب عبدالعظیم اپنے زمانے کے حاکم سے فرار کی حالت میں شہرِ رے میں داخل ہوئے اور محلّۂ غرباء میں ایک شیعہ شخص کے گھر کے تہہ خانے میں قیام کیا، اور وہاں عبادت میں مشغول رہے؛ دن کو روزہ رکھتے اور راتیں نماز و مناجات میں گزارتے۔ رات کی تاریکی میں چھپ کر باہر نکلتے اور اُس قبر کی زیارت کرتے جو اب اُن کی اپنی قبر کے سامنے ہے اور جس کا فاصلہ چند قدم سے زیادہ نہیں (یعنی جناب حمزہ، فرزندِ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی قبر) اور فرماتے: یہ قبر موسیٰ بن جعفر علیہما السلام کے فرزندوں میں سے ایک کی ہے۔

ایک مدّت تک وہ اُسی تہہ خانے میں رہے اور شیعہ ایک ایک کر کے اُن سے باخبر ہوتے رہے، یہاں تک کہ اُس علاقے کے اکثر شیعہ اُن سے آشنا ہو گئے۔ پھر اُن میں سے ایک شخص نے خواب میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو دیکھا، آپ نے اُس سے فرمایا: میرے فرزندوں میں سے ایک مرد کا جنازہ محلّۂ غریباں سے لایا جائے گا اور عبدالجبّار بن عبدالوہّاب کے باغ میں، وہاں موجود سیب کے درخت کے پاس دفن کیا جائے گا — اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اُس جگہ کی طرف اشارہ فرمایا۔

وہ شخص جب بیدار ہوا تو عبدالجبّار کے باغ کی طرف گیا تاکہ قبر کی جگہ اور وہ سیب کا درخت اُس کے مالک سے خرید لے۔ باغ کے مالک نے پوچھا: یہ کس لیے چاہتے ہو؟ اُس نے کہا: میں نے ایسا خواب دیکھا ہے، اور سارا قصّہ بیان کر دیا۔ باغ کے مالک نے کہا: میں نے بھی خود ایسا ہی خواب دیکھا ہے؛ میں نے اِس درخت کی جگہ اور پورا باغ اُس سیّد اور شیعوں کے لیے وقف کر دیا ہے کہ وہ اِس میں دفن ہوں۔

کچھ عرصے بعد عبدالعظیم ـ رحمہ اللہ ـ بیمار ہوئے اور رحلت فرما گئے۔ جب انہیں غسل کے لیے تیار کیا جا رہا تھا تو اُن کی جیب میں ایک رقعہ ملا جس پر یوں لکھا تھا: میں ابوالقاسم عبدالعظیم بن عبداللہ بن علیّ بن حسن بن زید بن حسن بن علیّ بن ابی طالب علیہم السلام ہوں۔»

📚 رجال نجاشی

❖   ❖   ❖