پہلا باب: اجداد، والدین اور رشتہ دار
سوانحِ حیاتِ حضرت خدیجہ کبریٰ (س)
سلسلہ ~۲ منٹ مطالعہ

پہلا باب: اجداد، والدین اور رشتہ دار

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا نسب، والد کی طرف سے:

❝خدیجه بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی الاسدیه بن کلاب بن مره بن کعب بن لؤی بن غالب.❞(1)

اور ان کی والدہ کا نسب:

❝فاطمه بنت زائده بن اصم (و اسمه جندب) بن رواحه الهرم ابن حجر بن عبد بن معیص بن عامر بن لؤی بن غالب بن فهر(2) بن مالک بن النضر من کنانه من قریش.❞(3)

1۔ علموا اولادکم محبہ آل بیت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ، صفحہ 59۔

2۔ ایضاً، صفحہ 59۔

3۔ موسوعہ امہات المؤمنین: دراسہ فی سیرہن و مرویاتہن، صفحہ 75۔

خدیجہ کے والد: خویلد بن اسد اور ان کے اجداد

اس بلند مرتبت خاتون کے والد خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی تھے، جن کا نسب قصی کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے نسب سے جا ملتا ہے۔(1)

❝تجتمع مع رسول الله فی النسب الشریف فی قصی من جهه ابیها و فی لؤی من جهه امها فهی قرشیه اباًو اماً.❞(2)

1۔ سیرہ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 201؛ خدیجہ کبریٰ، صفحہ 8۔

2۔ علموا اولادکم محبہ آل بیت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ، صفحہ 59؛ سیرہ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 187-189؛ طبقات ابن سعد، جلد8، صفحہ 14۔

خدیجہ کے والد — قریش کے بنی اسد قبیلے سے

بعض کا کہنا ہے کہ خویلد قریشی اسدی تھے۔(1)

صاحبِ کتاب اعیان الشیعہ لکھتے ہیں:
❝خدیجه بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی القرشیۀ الاسدی ام المؤمنین صلوات الله و سلامه و رضوانه علیها.❞(2)

بعض کا یہ بھی کہنا ہے کہ خویلد صرف اسدی تھے۔(3)

اور بعض محققین کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا والدین دونوں کی طرف سے قریشی پیدا ہوئیں۔(4)

آپ کے والد اور والدہ دونوں قریشی تھے — ❝قرشیۀ اباً و اماً❞۔(5)

1۔ تراجم اعلام النساء، جلد2، صفحہ 41؛ محدثات شیعہ، صفحہ 157؛ نساء خالدات فی القرآن الکریم و یلیہ زوجات و ابناء و احفاد و اخوہ بین الجنہ و النار، صفحہ 66؛ السمط الثمین فی مناقب امہات المؤمنین، صفحہ 23؛ سیر اعلام النبلاء، جلد2، صفحہ 109۔

2۔ اعیان الشیعہ، جلد6، صفحہ 308۔

3۔ تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الاعلام، جلد1، صفحہ 237؛ طبقات ابن سعد، جلد8، صفحہ 14۔

4۔ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، صفحہ 68؛ امیران ایمان یا زندگی نامہ خدیجہ کبریٰ و فاطمہ زہرا علیہما السلام، صفحہ 68؛ تاریخ پیامبر اسلام، صفحہ 13۔

5۔ علموا اولادکم محبہ آل بیت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ، صفحہ 59؛ سیرہ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 187-189؛ طبقات ابن سعد، جلد8، صفحہ 14؛ المستدرک، جلد3، صفحہ 182؛ دلائل النبوہ بیہقی، جلد2، صفحہ 68 و جلد7، صفحہ 282؛ السیر و المغازی لابن اسحاق، صفحہ 82۔

❖   ❖   ❖