پہلا باب: اجداد، والدین اور رشتہ دار
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا نسب، والد کی طرف سے:
اور ان کی والدہ کا نسب:
1۔ علموا اولادکم محبہ آل بیت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ، صفحہ 59۔
2۔ ایضاً، صفحہ 59۔
3۔ موسوعہ امہات المؤمنین: دراسہ فی سیرہن و مرویاتہن، صفحہ 75۔
خدیجہ کے والد: خویلد بن اسد اور ان کے اجداد
اس بلند مرتبت خاتون کے والد خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی تھے، جن کا نسب قصی کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے نسب سے جا ملتا ہے۔(1)
1۔ سیرہ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 201؛ خدیجہ کبریٰ، صفحہ 8۔
2۔ علموا اولادکم محبہ آل بیت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ، صفحہ 59؛ سیرہ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 187-189؛ طبقات ابن سعد، جلد8، صفحہ 14۔
خدیجہ کے والد — قریش کے بنی اسد قبیلے سے
بعض کا کہنا ہے کہ خویلد قریشی اسدی تھے۔(1)
بعض کا یہ بھی کہنا ہے کہ خویلد صرف اسدی تھے۔(3)
اور بعض محققین کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا والدین دونوں کی طرف سے قریشی پیدا ہوئیں۔(4)
1۔ تراجم اعلام النساء، جلد2، صفحہ 41؛ محدثات شیعہ، صفحہ 157؛ نساء خالدات فی القرآن الکریم و یلیہ زوجات و ابناء و احفاد و اخوہ بین الجنہ و النار، صفحہ 66؛ السمط الثمین فی مناقب امہات المؤمنین، صفحہ 23؛ سیر اعلام النبلاء، جلد2، صفحہ 109۔
2۔ اعیان الشیعہ، جلد6، صفحہ 308۔
3۔ تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الاعلام، جلد1، صفحہ 237؛ طبقات ابن سعد، جلد8، صفحہ 14۔
4۔ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، صفحہ 68؛ امیران ایمان یا زندگی نامہ خدیجہ کبریٰ و فاطمہ زہرا علیہما السلام، صفحہ 68؛ تاریخ پیامبر اسلام، صفحہ 13۔
5۔ علموا اولادکم محبہ آل بیت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ، صفحہ 59؛ سیرہ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 187-189؛ طبقات ابن سعد، جلد8، صفحہ 14؛ المستدرک، جلد3، صفحہ 182؛ دلائل النبوہ بیہقی، جلد2، صفحہ 68 و جلد7، صفحہ 282؛ السیر و المغازی لابن اسحاق، صفحہ 82۔